یہودی آباد کاروں کے ایک جتھے نے مقبوضہ بیت المقدس کی شیخ جراح کالونی پر دھاوا بولا اورفلسطینیوں کی دو کاروں کو نذر آتش کرنے کے ساتھ ساتھ دیواروں پر دھمکی آمیز عبارتیں بھی درج کردیں۔
جس عمارت کی دیواروں پر اشتعال انگیز کلمات لکھے گئے، اسی عمارت کے ایک رہائشی موسی العلمی نے ”مرکز اطلاعات فلسطین” کو بتایا کہ رات ڈیڑھ بجے جب وہ اپنے کام سے واپس گھر آرہا تھا تو اس نےدیکھا کہ ہمسائے کی ایک کار میں آگ لگی ہوئی ہے اور پانچ افراد پر مشتمل یہودی آباد کاروں کی ایک ٹولی اس سے قریب کھڑی ہے میرے قریب پہنچتے ہی وہ سب وہاں سے فرار ہوگئے۔
موسی العلمی کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی بڑی تیزی سے کی گئی اور انتہاء پسندوں نے اس میں آتشزدگی کو تیزی سے بھڑکانے والا مواد استعمال کیا، اس جتھے نے علاقے میں دو کاروں کو جلایا، حملہ آوروں میں سے ایک، جس نے خاص طرز کی چھوٹی ٹوپی بھی پہن رکھی تھی، نے ہماری عمارت، جس میں آٹھ فلسطینی خاندان آباد ہیں، کی دیواروں پر عبرانی زبان میں ”قیمت چکانے” کی علامات اور نعرے بھی درج کردیے۔
اسی عمارت میں قیام پذیر عدنان عبد اللطیف نے بتایا کہ انہوں نے دو روز قبل ایک یہودی کو اس عمارت کی نگرانی کرتے دیکھا تھا۔ یہ عمارت ”روڈ نمبر 01” کے انتہائی قریب واقع ہے، یہودی اس عمارت کے قریب سے گزرتے ہیں اور اسٹریٹجک اہمیت کی جگہ پر تعمیر اس عمارت اور یہاں کے رہنے والوں کو گھورتے جاتے ہیں۔ یہ روڈ مقبوضہ القدس کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد اسرائیلی پولیس اور سرحدی گارڈز نے آکر اس معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں مگر وہ ان تحقیقات سے مطمئن نہیں کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلنا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
