غزہ میں وزارت تعلیم و تربیت اورانٹرنیشنل القدس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ایک علمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کا عنوان ” القدس کی تعلیم اسرائیلی شکنجے میں ” رکھا گیا تھا۔
اس کانفرنس میں القدس کے تعلیمی شعبے کی پالیسی کے بارے میں بحث کی گئی،تمام شرکاء کا اتفاق تھا کہ القدس میں نظام تعلیم پر مکمل طور پر اسرائیل قابض ہو چکا ہے۔ پیر کے روز ہونے والی اس کانفرنس میں وزیر تعلیم ڈاکٹر اسامہ مزینی اور القدس فاؤنڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر احمد ابو حلبیہ نے بھی شرکت کی۔ انتظامی کمیٹی کے سربرا ہ ڈاکٹر محمد کحلوت اور دیگر متعدد ماہرین تعلیم بھی کانفرنس میں موجود تھے۔کانفرنس میں مختلف یونیورسٹیوں سے مختلف شعبوں میں تخصص کرنے والی علمی شخصیات شریک تھیں۔فلسطینی وزارت تعلیم و تربیت نے طلبہ کے اذھان میں القدس کو راسخ کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ القدس وزارت تعلیم و تربیت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ہم نے اس وزارت میں ایک یونٹ القدس کے نام سے بنا رکھا ہے۔ یہ یونٹ مختلف اسکولوں میں القدس سے متعلق معلومات اور اس کی آزادی کے متعلق آگہی کے پروگرام اور سرگرمیاں منعقد کرواتا رہتا ہے۔وزیر تعلیم اسامہ مزینی نے بتایا کہ القدس میں اسی فیصد سے تعلیم اسرائیل کے براہ راست قبضے میں ہے۔ اسرائیل نے القدس میں موجود مسلمانوں کے خاص اسکولوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ اسرائیل کی دست برد سے محفوظ چند مدارس اوقاف اسلامی او ر دیگر خیراتی تنظیموں کے تحت چل رہے ہیں۔ اس موقع پر ابو حلبیہ نے فلسطین کے وزیر تعلیم و تربیت سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین بھر بالخصوص القدس میں حفاظ کرام کے لیے عربی کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے ایک منصوبہ بندی کریں۔کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر کحلوت کا کہنا تھا کہ جس طرح دیگر تمام شعبوں میں اسرائیل نے اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے اسی طر ح القدس کا شعبہ تعلیم بھی صہیونی رحم و کرم کا محتاج ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک صہیونی طالب علم پر فلسطینی طالب علم کے مقابلے پانچ گنازیادہ خرچہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی قوانین کے تحت قابض قوت پر لازم ہے کہ وہ اپنی مقبوضہ قوم کے نونہالوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں۔ انہوں نے القدس میں تعلیم کا انقلاب برپا کرنے کے لیے ایک عملی منصوبہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا جس کے تحت انسانی حقو ق کی تنظیموں کے تحت چلنے والے اور عربی کے تمام اسکولوں کو آپس میں ملا دیا جائے۔
