’’اسلامی مسیحی تنظیم برائے نصرت القدس و مقدسات‘‘ نے مقبوضہ بیت المقدس کے مطلع ہسپتال کے قریب جبل زیتون میں چودہ ایکڑ اراضی پر فوجی کالج کے قیام کے
منصوبے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے شہر اور اس کے اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کو یہودیانے کی پالیسی تیز کر دی ہے۔
تنظیم کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی جانب سے کالج کی تعمیر کا فیصلہ عالمی معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ منصوبہ بھی صہیونی ریاست جو مشرقی اور مغربی حصے پر مشتمل متحدہ القدس کو اپنا دارالحکومت قرار دیتی ہے کے القدس کو یہودیانے کے پروگرام کا ہی ایک حصہ ہے۔
دوسری جانب تنظیم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حنا عیسی کا کہنا تھا کہ ہم القدس کے معاملے میں ایسے مرحلے تک جا پہنچے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ اسرائیل پہلے مرحلے میں القدس پر قبضہ کرنے کے بعد اب مسجد اقصی، یہاں پر موجود عیسائی گرجا گھروں اور دیگر مقدس مقامات کو یہودی آثار قدیمہ میں تبدیل کر رہا ہے۔ سب سے آخر میں اسرائیل نے اس شہر کو مغربی کنارے سے جدا کرکے نام نہاد یہودی ریاست میں شامل کرنے کے لیے دیوار کی تعمیر شروع کر رکھی ہے۔ اب مشرقی القدس کے عین وسط میں شہری اور فوجی سروسز کے ادارے کے قائم کرنے کا مقصد القدس کو اسرائیل کا ابدی دارالخلافہ بنانا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ القدس مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں تینوں کی مقدس جگہ ہے مگراسرائیل اس شہر سے اسلامی اور مسیحی شناخت کو مسخ کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب تنظیم نے مسجد اقصی پر یہودی آباد کاروں کے حملوں کی بھی شدید مذمت کی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
