اسرائیل سے شائع ہونے والے اخبار "یدیعوت احرونوت” کی رپورٹ کے مطابق سامرالبرق مغربی کنارے کے شمالی شہر قلقیلیہ کا رہنے والا ہے۔ تاہم وہ کویت میں پیدا ہوا اور بائیولوجیکل سائنس میں اس نے تعلیم حاصل کی، جس کے بعد وہ افغانستان کے جہاد میں شرکت کرنے چلا گیا، جہاں سے وہ پاکستان گیا۔ اس کی گرفتاری پاکستان میں عمل میں لائی گئی جہاں سے اسے امریکیوں کے حوالے کردیا گیا۔امریکا نے اسے ایک خطرناک دہشت گرد قرار دے کر بدنام زمانہ جیل گوانتا نامو پہنچا دیا۔
تاہم کچھ عرصے بعد گوانتا نامو سے رہا کردیا گیا۔ واپسی پرجب وہ رام اللہ پہنچا تو اسرائیلی فوج نے اسے حراست میں لے لیا۔ وہ سنہ 2010 ء کے بعد سے اسرائیل کی انتظامی حراست میں ہے۔ اس پرکسی قسم کا مقدمہ نہیں چلایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پراسیکیورٹر جنرل کےحکم پرمزید چھ ماہ کے لیے انتظامی حراست میں رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ صہیونی حکام کا کہنا ہے کہ وہ سامرالبرق کی رہائی سے خوف زدہ ہیں کیونکہ اسے رہا کیا گیا تووہ دوبارہ شدت پسندوں میں شامل ہوکراسرائیل کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
درایں اثناء فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور سمامی اداروں نے سامرالبرق کی گرفتاری اور انتظامی حراست کو غیرقانونی قرار دے کر اس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ سامرکے وکیل صلاح محامید کا کہنا ہے کہ اس کے موکل نے پاکستان اور افغانستان میں سفرسے انکار نہیں کیا تاہم اس کا کہنا ہے وہ ان دونوں ملکوں میں ریلیف سرگرمیوں میں حصہ لینے گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے گرفتاری کے بعد گوانتا نامو لے جایا گیا تھا مگر امریکی حکام نے اسے تین ماہ بعد رہا کردیا تھا۔
