اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے فلسطینی صدر محمود عبا(ابو مازن) کی جماعت الفتح اور رام اللہ اتھارٹی کے اسرائیل کی حکمراں جماعت "لیکوڈ” کے ساتھ خفیہ مذاکرات کا انکشاف کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق الفتح اور "لیکوڈ” کے مشترکہ اجلاس میں اسرائیل۔ فلسطین راست مذاکرات کی بحالی کے طریقہ کار پرغور کیا گیا۔
اسرائیل کے عبرانی روزنامہ "معاریف” نے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی حکمراں جماعت لیکوڈ اور الفتح کےقائدین کا مشترکہ اجلاس اتوار کی شام رام اللہ میں ہوا۔ اجلاس میں یہودی بلدیاتی کونسلوں کی ناظمین، یہودی ربی، صہیونی صدر اور وزیراعظم کے مشیران اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس میں فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان امن بات چیت کے دوبارہ آغاز کے طریقہ کار پرغور کیا گیا۔
الفتح کی جانب سے اجلاس میں تنظیم آزادی فلسطین کی سینٹرل کمیٹی کے ارکان یاسر عبد ربہ، محمد المصری سابق وزیر امور اسیران اشرف العجرمی اور نبیل شعث سمیت کئی دیگر رہ نماؤں نے شرکت کی۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے مسئلہ فلسطین کے حل کے بارے میں اپنے موقف سے آگاہ کیا گیا۔ دوسری جانب اسرائیلی رہ نماؤں نے بھی امن بات چیت کو آگے بڑھانے کے طریقہ کار پرتبادلہ خیال کیا۔
معاریف کے مطابق اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتےہوئے الفتح کے رہ نما یاسر عبد ربہ کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی اب نئے عزم کے ساتھ امن بات چیت میں شامل ہونے جا رہی ہے۔ ہماری جانب سے اب امن بات چیت کے لیے ٹھوس اور غیرمعمولی پیش رفت کی تیاری کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں رام اللہ انتظامیہ ٹھوس اقدامات اٹھائے گی۔ تاہم انہوں نے ان”ٹھوس اقدامات” کی کوئی تفصیل نہیں بتائی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
