مقبوضہ بیت المقدس کی ایک مرکزی عدالت نے سن 48ء کے مقبوضہ عرب علاقے میں اسلامی تحریک کے رہنما الشیخ رائد صلاح پر چھے ماہ کے لئے شہر میں داخلے پر پابندی کے فوجی حکمنامے کے خلاف اپیل کی سماعت کی۔ یہ اپیل نصیرات میں انسانی حقوق کی انجمن المیزان سینٹر فار ہیومن رائٹس نے پیش کی تھی۔
تحریک اسلامی کے القدس اور مسجد اقصی کے بارے میں مشیر علی ابوشیخہ نے ایک بیان میں الشیخ رائد صلاح کی مقبوضہ بیت المقدس سے چھے ماہ کے لئے بیدخلی کو سیاسی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے اسرائیل مسجد اقصی پر اپنا تسلط جمانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہ اسرائیلی پراسیکیوشن کی جانب سے رائد صلاح کی شہر میں موجودگی کو ‘تشدد کو ہوا دینے کا باعث قرار دینا” انتہائی قابل مذمت ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کو ارسال کئے گئے اپنے بیان میں علی ابوشیخہ نے کہا کہ الشیخ رائد صلاح کی القدس سے بیدخلی کے باوجود تشدد کی کارروائیاں رکی نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری آج کی اپیل دراصل الشیخ رائد صلاح کی شہر بدری سے متعلق ظالمانہ اقدام کے خلاف اظہار نفرت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری اپیل کے قابل سماعت ہونے کے بارے میں عدالت اگلے چند دنوں میں فیصلہ صادر کرے گی۔
درایں اثنا الشیخ ابو شیخہ نے اسرائیلی انسپکٹر جنرل پولیس کی جانب سے یہودی آبادکاروں کو مسجد اقصی کے صحن پر دھاوا بولنے کی کال کی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ صہیونی کارپردازوں کی ایسی اپیلیں دراصل نمازیوں میں ہیجان پیدا کرتی ہیں جس سے تشدد کی کارروائیوں کو ہوا ملتی ہے، اسی سے شہر میں بے امنی کی فضا میں اضافہ ہوتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
