فلسطین کے 48ء میں اسرائیلی قبضے میں جانے والے علاقوں میں سرگرم اسلامی تحریک کے سربراہ الشیخ رائد صلاح نے برطانوی وزارت خارجہ کے خلاف اپنی برطانیہ بدری کا مقدمہ جیت لیا ہے۔
اسلامی تحریک کے ترجمان زاھی نجیدات نے قدس پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رائد صلاح کی برطانوی عدالت میں کامیابی انتہائی اہم ہے، انہوں نے کہا کہ یہ فلسطین، عرب اور اسلامی دنیا کی کامیابی ہے۔ شیخ رائد صلاح کو خود برطانوی عدالت نے ان تمام الزامات سے بری الذمہ قرار دیا ہے کہ جنہیں بنیاد بنا کر گذشتہ برس انہیں برطانیہ سے بیدخل کرنے کا کیس تیار کیا گیا تھا۔ شیخ رائد صلاح نے اپنی برطانیہ بدری کے فیصلے کو خود برطانیہ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
زاھی نجیدات نے بتایا کہ شیخ رائد صلاح نے اپنی برطانیہ بیدخلی کے خلاف اپیل اپنی ذاتی صفائی کی خاطر نہیں کی تھی بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ جس کاز کی ترویج سے روکنے کے لئے انہیں برطانیہ سے بیدخل کیا جا رہا ہے، اس کی حقانیت اور مبنی بر حق ہونا ثابت کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
برطانوی عدالت کے شیخ رائد صلاح کے حق میں فیصلہ دراصل مسئلہ فلسطین کی جیت ہے۔ شیخ رائد کی کامیابی سے مسجد اقصی کو درپیش خطرات سے متعلق گفتگو اب یورپ میں ممنوع قرار نہیں دی جا سکے گی۔ اب آزادنہ طور پر مسئلہ فلسطین اور مقدسات اسلامیہ کو درپیش خطرات سے متعلق یورپ اور بین الاقوامی دنیا کو آگاہ کیا جا سکے گا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین۔

