مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق الشیخ عدنان کی اہلیہ ام عبدالرحمان نے بتایا کہ 12 جولائی کو اسرائیلی جیل سے رہائی کے بعد ان کے شوہرکو اسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم ان کا علاج مکمل نہیں ہوسکا۔ دوماہ تک جیل میں بھوک ہڑتال کرنے کے نتیجے میں ان کی آنتیں اور پتا آپس میں چپک گئے تھے۔ اس کے علاوہ معدے کی صفائی بھی ضروری تھی۔ اس لیے انہیں حال ہی میں نابلس میں الانجیلی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا کامیاب آپریشن ہوا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ام عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر کی طویل بھوک ہڑتال کے نتیجے میں جسم کا اندرونی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جسم میں بڑی مقدار میں گیس بھرجانے کے باعث سرجری کرنا بہت مشکل تھا۔ تاہم ڈاکٹر جسم میں موجود فالتو گیس کے اخراج کے بعد سرجری میں کامیاب ہوئے ہیں۔ سابق اسیر کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر کو جمعرات کو اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں منتقل کیا گیا تھا جہاں انہیں ڈاکٹروں کی خصوصی نگرانی میں رکھا گیا۔ انہوں نے بتایا طویل بھوک ہڑتال کے نتیجے میں جسم میں آنتیں آپس میں چپک گئی تھیں جس کے باعث ان کے لیے کھانا پینا بھی مشکل ہو رہا تھا۔
خیال رہے کہ 37 سالہ خضرعدنان محمد موسیٰ اسلامی جہاد کے اہم رہ نما ہیں۔انہیں صہیونی فوجیوں نے ایک سال قبل غرب اردن سے حراست میں لیا اور بغیر کسی قسم کا مقدمہ چلائے ایک سال تک انتظامی قید میں رکھا تھا۔ اپنی غیرقانونی انتظامی حراست کے خلاف مئی کے شروع میں انہوں نے بھوک ہڑتال شروع کی جو جولائی تک جاری رہی۔ آخر کارصہیونی انتظامیہ کو رہائی کی شرط پران کی بھوک ہڑتال ختم کرانا پڑی تھی۔ انہوں نے 55 دن بغیر کچھ کھائے پیے گذار دیے جس کے نتیجے میں ان کی حالت بری طرح خراب ہوچکی تھی۔ رہائی سے قبل بھی وہ اسرائیل کے ایک اسپتال میں تھے لیکن ان کاکسی قسم کا علاج معالجہ نہیں کیا گیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
