34 سالہ فلسطینی اسیر مراد ابو ملاق کے خاندان نے اپنے عزیز کی صحت کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا اور اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی اسیران کی صحت کی طرف توجہ نہ دینے کی اسرائیلی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
مراد ابو ملاق کو 2001 میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ قابض ریاست کے خلاف مزاحمت کے الزام میں 22 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
ان کے والد نے مرکز اطلاعات فلسطین کے نمائندے کو بتایا ہے کہ ان کے بیٹے کی طبیعت سال 2007ء میں خراب ہونا شروع ہوئی تھی جب انہیں معدے شدید درد اور دوسری مختلف بیماریوں کا سامنا کرنا پڑرہا تھا۔
مراد کے والد کے مطابق ان کی بھوک ہڑتال کے بعد انہیں ایک سرجری کرانا پڑی جس میں ان کی بڑی آنت کا 40 سینٹی میٹر اور چھوٹی آنت کا 50 سیٹی میٹر حصہ باہر نکالنا پڑا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسرائیلی جیل انتظامیہ نے جان بوجھ کر ان کے اندر خراب آنت کا ایک حصہ چھوڑ دیا تھا کہ جس کے نتیجے میں ان کی تکلیف ابھی تک جاری ہے۔
مراد کی بائیں ٹانگ میں بھی جزوی معذوری ہے۔ ان کی اسی ٹانگ پر ان کی حراست کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے گولی ماردی تھی۔
اسیر کے والد نے کہا ہے کہ اسرائیلی جیل انتظامیہ کی بیمار اسیران کو نظر انداز کرنے کی پالیسی کی وجہ سے ان کے بیٹے کی طبیعت مزید خراب ہو رہی ہے۔
انہوں نے اسیران کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کی اسیران کے معاملات میں خاموشی کی شدید مذمت کی۔
مراد ابو ملاق کے بھائی یونس نے فلسطینی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسیران کی رہائی کے لئے مداخلت کرے اور ان کے معاملے کو اپنی ترجیحات میں سب سے اوپر رکھے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
