مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق عباس ملیشیا کے انٹیلی جنس غنڈہ گردوں نے رام اللہ میں اسیران نیٹ ورک کے ایک کارکن کے گھر پر چھاپہ مارا۔ گھر میں کھڑی ان کی گاڑی اور دیگر ضروری اشیاء قبضے میں لینے کے بعد سماجی کارکن کو گھیسٹ کر سڑک پرلایا گیا تھا، جہاں اسے بری طرح مارا پیٹا گیا ہے۔ بعد ازاں حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔
اسیران کے لیے کام کرنے والی تنظیم "انین اسیران” کی ترجمان بشریٰ الطویل نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ ہمارے کارکن ایک اسیر کے اہل خانہ سے مل کر واپس آ رہے تھے کہ عباس ملیشیا کے اہلکاروں نے انہیں زدو کوب کیا۔ اس دوران ایک کارکن اکیس سالہ اسامہ جہاد شتات اپنی کار کے اپنے گھر جا رہا تھا کہ عباس ملیشیا کے اہلکاروں ان اس کا تعاقب کیا اور اس کے گھرمیں پہنچ کراس سے گاڑی کی چابی چھین لی گئی اور لیپ ٹاپ کمپیوٹرسمیت کئی دوسری اشیاء بھی قبضے میں لینے کے بعد اسامہ جہاد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم کی ترجمان نے عباس ملیشیا کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عباس ملیشیا کے سیکیورٹی ادارے اسرائیلی جیلوں میں زیرحراست فلسطینی شہریوں کےاہل خانہ سے روابط رکھنے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ یوں عباس ملیشیا درپردہ اسرائیلی فوج کا کردار ادا کر رہی ہے۔
