اسرائیل کے جنرل پبلک ریڈیو نے اھارونویچ سے منسوب یہ بیان نشر کیا ہے جس میں انہوں نے دھمکی دی کہ "ان کی حکومت قبلہ اول کے حرم قدسی میں مسلمانوں کا داخلہ بند کر سکتی ہے جس طرح ہم نے اتوار کے روز طے شدہ نظام کو خراب کرنے والے یہودیوں کا حرم میں داخلہ بند کر کے کیا۔”
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ "اس سلسلے میں القدس ڈسٹرکٹ کی انتظامیہ کوئی بھی فیصلہ کرنے کی مجاز ہے۔”
اس نوعیت کا فیصلہ فلسطینی علاقوں میں پہلے سے موجود کشیدگی میں اضافہ ہو گا کیونکہ فلسطینی مسجد اقصی کے حوالے سے کسی بھی اقدام کو ‘ریڈ لائن’ تصور کرتے ہیں۔
قابض اسرائیلی پولیس مسجد اقصی میں مسلمانوں کے داخلے سے متعلق پابندیوں کا شوشا چھوڑ کر القدس کی صورتحال میں خرابی پیدا کرنا چاہتی ہے۔
قابض اسرائیلی پولیس نے گذشتہ روز یہودی آباد کاروں کے قبلہ اول پر حملے کے بعد مسجد اقصی بند کر دی تھی جبکہ پیر کے روز انہیں اسرائیلی پارلیمنٹ کے انتہا پسند رکن موشیہ فائیگلن کی قیادت میں داخلے کی اجازت ملی تو اس کے بعد دفاع مسجد اقصی کے لئے موجود مسلمانوں اور یہودی آباد کاروں کے درمیان تصادم رونما ہوا۔
اسرائیلی وزیر اھارونویچ نے مسجد اقصی کے دفاع کی خاطر وہاں موجود مسلمانوں کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عاید کیا کہ قانون توڑنے والے مسلمانوں کا تعلق اسرائیل کے اندر سرگرم تحریک اسلامی اور حماس سے ہے۔ صہیونی وزیر کے بقول ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کیا جائے گا۔
یاد رہے موشیہ فائیگلن کے مسجد اقصی پر پیر کے روز حملے کی دھمکی کے بعد سے متعدد مسلماں حرم قدسی میں دھرنا دیکر بیٹھ گئے تھے۔ موشیہ فائیگلن نے قبلہ اول میں یہودی آبادکاروں کے جتھے کے ہمراہ یہودی تیہوار عید العرش کے موقع پر داخلے کا اعلان کیا تھا۔ اس عید کی تقریبات کا آغاز بدھ کے روز ہوا، جو ایک ہفتے جاری رہے گا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
