اسرائیل کے عبرانی اخبارات نے دعویٰ کیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل کی شہری حکومت نے مسجد اقصیٰ کے قریب ایک فلائی اوور ریلوے ٹریک کے زیرغور منصوبے پر باقاعدہ کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں فرانس کی ایک تعمیراتی فرم کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے۔ آئندہ دو ہفتوں میں باضابطہ طور پر منصوبے کا افتتاح کردیا جائے گا۔
اسرائیل کے ایک کثیرالاشاعت عبرانی روزنامہ’’ہارٹز‘‘ نے اپنی جمعہ چھ مارچ کی اشاعت میں ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بیت المقدس کی شہری حکومت نے دو سال قبل مسجد اقصیٰ اور قدیم بیت المقدس کے اوپر’’تلفریک‘‘ نامی ایک فلائی اوور ریلوے ٹریک منصوبے پر کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم منصوبے پرعمل درآمد میں حائل بعض تکنیکی رکاوٹوں اور سیاسی دبائو کے باعث اس پرکام شروع نہیں کیا جا سکا تھا۔
پچھلے چند ماہ کے دوران بیت المقدس میں اسرائیلی میئر نیر برکات نے ’’تلفریک‘‘ منصوبے پرکام شروع کرنے کے لیے ماہرین تعمیرات سے صلاح مشورے شروع کردیے تھے۔ رپورٹ کے مطابق یہ ریلوے ٹریک بیت المقدس میں پٹرچ القدیس چرچ سے شرو ہو کر مسجد اقصیٰ کی دیوار براق [دیوار گریہ] کے قریب سے گذرے گا۔ اس منصوبے کا ایک اہم مقصد یہودی سیاحوں کی ریل گاڑی کے ذریعے مسجد اقصیٰ بالخصوص دیوار براق تک رسائی کو یقینی بنانا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی حکومت نے فرانس کی SAFEGE نامی ایک فرم کےساتھ بات چیت شروع کی ہے، جس کے ماہرین نے منصوبے کے لیے ایک ابتدائی نقشہ بھی تیار کیا ہے تاہم اس کے اخراجات اور اہمیت کے حوالے سے مزید غور وخوض جاری ہے۔
عبرانی اخبار لکھتا ہے کہ توسیع پسندی کے اس صہیونی منصوبے کو اسرائیل کی فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری میں ملوث تنظیم’’العاد‘‘ کا تعاون بھی حاصل ہے۔ اسی تنظیم نے چند سال پیشتر مسجد اقصیٰ کے قریب ایک فلائی اور ریلوے لائن منصوبے کی تجویز پیش کی تھی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
اخبار لکھتا ہے کہ بیت المقدس میں اسرائیلی میئر نیر برکات جلد ہی منصوبے کو حتمی شکل دے کر ایک نیوز کانفرنس میں اس پرکام شروع کرنے کا اعلان کریں گے۔
