اسرائیلی حکومت کے ایک باوثوق ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ تل ابیب حکومت نے فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ میںمبصر کا درجہ دیے جانے کے ردعمل میں
مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں یہودیوں کے لیے کم سے کم تین ہزار مکانات کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔
اسرائیلی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے کی یہودی کالونی معالیہ ادومیم اور مشرقی بیت المقدس میں قائم یہودی کالونیوں میں مزید تین ہزار مکانات کی تعمیر کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کو مبصر ملک کا درجہ ملنے کے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر کیا گیا ہے جس سے صہیونیوں کی فلسطین دشمنی کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو یو این میں فلسطینی ریاست کا مرتبہ بڑھائے جانے کے خلاف یہودی کالونیوں کی توسیع کے علاوہ دیگر اقدامات بھی کریں گے، تاہم ان دیگر اقدامات کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے یہودی کالونیوں میں توسیع کے تازہ اعلان پر عالمی سطح پر صہیونی حکومت کو سخت تنقید کا بھی سامنا ہے۔
ادھر اسرائیلی رکن کنیسٹ اور بائیں بازو کی جماعت ’’میرٹس‘‘ کی خاتون سربراہ زھافا غلوؤن کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاھو اور وزیرخارجہ آوی گیڈور لائبر مین کا خیال ہے کہ فلسطین کو اقوام متحدہ میں مبصر کا درجہ دلوانے کا مقصد اسرائیل کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی سازش کرنا ہے اور اسرائیل اپنے خلاف کسی عالمی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات
