مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق جنوب مغربی بیت المقدس سے متصل غرب اردن کے علاقے’’بتیر‘‘ کو جون 2014 ء کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت ’’یونیسکو‘‘ نے عالمی تاریخی ورثے کا حصہ قرار دیا تھا۔
اسرائیلی سپریم کورٹ کی جانب سے جاری تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وزارت دفاع کی جانب سے بتیر قصبے میں دیوار فاصل کی تعمیر کے لیے جو درخواست دی گئی تھی اس میں بھی واضح کیا گیاہے کہ بتیر قصبے میں دیوار کی تعمیر اولین ترجیح نہیں ہے۔ اگرچہ اس کےقریب یہودی کالونیوں کی سیکیورٹی کے لیے دیوار کی تعمیر ضروری ہےتاہم اس جگہ کو دیوار کی تعمیر کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے۔
خیال رہے کہ بیتیرقصبے میں اسرائیل نے چند سال قبل دیوار فاصل تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم 2012 ء میں قصبے کے فلسطینی مکینوں نے صہیونی وزارت دفاع کے فیصلے کو اسرائیلی سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔
قابل ذکر رہے کہ بتیر قصبے میں زیتون کے بعض باغات دو ہزار سال پرانے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ نے اسے ثقافتی اہمیت کا حامل قصبہ قرار دیا ہے۔
فلسطینی شہریوں کی اپیل پر اسرائیلی عدالت نے بتیر میں دیوار فاصل کی تعمیر فیصلہ آنے تک روک دی تھی۔ گذشتہ روز عدالت کے تفصیلی فیصلے میں دیوار کی تعمیر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں میں یہودی کالونیوں کےدفاع کے لیے دیوار فاصل کی تعمیر شروع کی تھی۔ سنہ 2004 ء میں عالمی عدالت انصاف نے اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
