اسرائیلی حکومت نے پچھلے تین ماہ سے روکے گئے فلسطینی اتھارٹی کے محصولات رام اللہ اتھارٹی کو ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق فلسطینی واجبات کی ادائی کا فیصلہ وزیردفاع موشے یعلون ، فوجی قیادت اور انٹیلی جنس ادارے’’شاباک‘‘ کے مشورے کے بعد کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ پچھلے سال دسمبر کے آخر میں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کے رد عمل میں اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے واجبات ادا کرنے سے انکار کردیا تھا۔
تین ماہ کے دوران اسرائیل کے ذمہ فلسطینی اتھارٹی کے محصولات کی رقم 300 ملین امریکی ڈالر تک جا پہنچی تھی۔ اب یہ رقم مرحلہ وار فلسطینی اتھارٹی کو ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسرائیل کے عبرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل محصولات میں سے بجلی، پانی اور میڈیکل کی بلات کی مد میں رقم کی کٹوتی بھی کرے گا۔ اس کے بد باقی ماندہ رقم فلسطینی اتھارٹی کو ادا کردی جائے گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
