اسرائیل کی داخلی سلامتی کے ذمہ دار ادارے "شن بیت” نے اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے بیرون فلسطین سے تنظیم کی شوریٰ کے رکن اور خالد مشعل کے دست راست محمود محمد طعمہ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ صہیونی خفیہ ادارے کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے 63 سالہ حماس رہ نما محمود طعمہ کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی داخلی سلامتی کے ادارے "شن بیت” کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں سیکیورٹی حکام نے ایک کارروائی کے دوران حماس کی شوریٰ کے اہم رکن کو حراست میں لیا ہے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ حراست میں لیے گئے رہ نما محمود طعمہ کے تنظیم کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل کے ساتھ براہ راست تعلقات ہیں۔ ان کی گرفتاری گذشتہ ماہ الکرامہ گذرگاہ سے فلسطین داخلے کے دوران عمل میں لائی گئی تھی۔
خیال رہے کہ آٹھ بچوں کے باپ تریسٹھ سالہ محمود طعمہ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ ان کا تعلق فلسطین کے مغربی کنارے کے شہر طولکرم سے ہے۔ سنہ 1983 ء میں انہوں نے اخوان المسلمون میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن سنہ 1987 ء میں انہوں نے حماس کی تاسیس کے بعد اس میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔
شاباک کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ محمود محمد طعمہ سنہ 2008 ء میں بیرون فلسطین حماس کی شوریٰ کے اہم رکن منتخب ہوئے تھے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تفتیش کے دوران حماس کے اسیر رہ نما نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی جماعت [حماس] اور مقبوضہ فلسطین میں سرگرم اسلامی تحریک کے ساتھ براہ راست تعلقات قائم ہیں اور حماس نے اسلامی تحریک ہی کے توسط سے بیت المقدس میں کئی منصوبوں کے لیے فنڈز بھی فراہم کیے تھے۔ اس کے علاوہ مسجد اقصیٰ میں مسلسل موجود رہنے والے فلسطینی نوجوانوں کو حماس کی جانب سے چار سے پانچ ہزار شیکل ماہانہ معاوضہ فراہم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل اور مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948 ء کے علاقوں میں سرگرم اسلامی تحریک کے سربراہ الشیخ رائد صلاح کے درمیان بھی براہ راست رابطے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس رہ نما نے مزید اعتراف کیا ہے کہ جماعت کی مجلس شوریٰ میں عالمی اخوان المسلمون کے آٹھ اہم مندوبین بھی شوریٰ کے اجلاسوں میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ وہی حماس کے اندرون فلسطین اسرائیلی مفادات پر حملوں اور عسکری کارروائیوں کی حکمت عملی وضع کرتے تھے۔ نیز حماس کے بیرون ملک اجلاس ترکی اور قطر کی میزبانی میں ہوتے رہے ہیں۔ دوحہ اور استنبول ہی حماس کو سیاسی اور مالی معاونت کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیلی خفیہ ادارے کے دعوے کے باوجود حماس کی جانب سے رکن شوریٰ کی گرفتاری سے متعلق کوئی وضاحت تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
