فلسطینی قومی حکومت کے ایک باخبر ذریعے نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ اسرائیلی حکومت نے دسمبر 2014 ء اور جنوری ، فروری اور مارچ 2015 ء کے چار ماہ کے روکے گئے فلسطینی محصولات ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ روکی گئی تمام رقوم آئندہ چند روز میں فلسطینی بنکوں میں منتقل کردی جائیں گی۔
قبل ازیں فلسطینی وزیر برائے شہری امور حسین الشیخ نےاپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کےدرمیان تل ابیب میں روکے گئے محصولات کی ادائی کے حوالے سے ایک معاہدہ طےپایا گیا ہے۔ معاہدے کے بعد ایک دو روز میں اسرائیل فنڈز جاری کردے گا۔
فلسطینی وزیر کا کہناتھا کہ فنڈز کی بحالی اور محصولات کی ادائی کے لیے فلسطینی، صہیونی مشترکہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو محصولات کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے طریقہ کار وضع کرے گی۔
فلسطینی حکومت کے میڈیا سینٹرکی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیاہے کہ اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کی واجب الاداء تمام رقوم ادا نہیں کرے گا بلکہ روکی گئی رقوم کا ایک حصہ ان اسرائیلی کمپنیوں کو دیا جائے گا جن کے فلسطینی اتھارٹی کے ذمہ واجبات واجب الاداءہیں۔ ان میں بجلی فراہم کرنے والی اسرائیلی کمپنی کے بلات سب سے زیادہ ہیں جو فلسطینی اتھارٹی کو ادا کرنا ہیں۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ہاں روکے گئے فنڈز ملنے کے بعد اس کا 60 فی صد فلسطینی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر صرف کیا جائے گا۔
