اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ سے متصل وادی الحلوہ میں ایک نئی یہودی بستی تعمیر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی وزارت داخلہ کےزیرانتظام ضلعی کمیٹی برائے تعمیرات ومنصوبہ سازی کے پیر کے اجلاس میں وادی الحلوہ میں ایک نئی کالونی کی تعمیر کی سفارش پیش کی گئی۔ کمیٹی نے مختصر غور و خوض کے بعد اس کی منظوری دے دی۔
رپورٹ کےمطابق وادی الحلوہ میں منظوری کی گئی اس کالونی کو”داؤد سٹی” پروجیکٹ کا حصہ قرار دیا گیا ہے جو اس علاقے میں پہلے ہی زیرتعمیر ہے تاہم اس کالونی کا نام”مرکزالقدم” رکھا گیا ہے۔ جو مسجد اقصیٰ سے متصل اس کے جنوبی حصے میں واقع ہے۔
دوسری جانب مسجد اقصیٰ کی تعمیرومرمت کی ذمہ دار تنظیم "اقصٰی فاؤنڈیشن و ٹرسٹ” نے وادی الحلوہ میں یہودی کالونی کی تعمیر کے اسرائیلی منصوبے کی تصدیق کی ہے۔ اقصیٰ فاؤنٰڈیشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں قبلہ اول کے آس پاس یہودی کالونیوں کی تعمیرمیں تیزی کی شدید مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی طرف سے یہودی کالونی کی تعمیرکا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب انتہا پسند یہودیوں کےمسجد اقصیٰ پر حملوں میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔
اقصیٰ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ قابض صہہونی حکومت نے دانستہ طورپر بیت المقدس میں مسلمان اکثریتی علاقوں کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنانا شروع کیا ہے۔ اسرائیل بیت المقدس کا نقشہ بدل کراسے یہودیت میں اس حد تک رنگنا چاہتا ہے کہ عالمی سطح پر یہ بات ثابت کی جا سکے کے اس شہرمیں صرف یہودی رہتے ہیں اور اس میں مسلمانوں اور فلسطینیوں کا کوئی حق نہیں۔
خیال رہے کہ وادی الحلوہ میں نئی کالونی کی تعمیر کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب دوسری جانب انتہا پسند یہودیوں کی طرف سے مسجد اقصیٰ کو سنگین نوعیت کے خطرات لاحقہیں۔ اقصیٰ فاؤنڈیشن نے اس منصوبے کو قبلہ اور بیت المقدس دونوں کے لیے سنگین قرار دیا۔ فاؤنڈیشن نے عرب ممالک، اسلامی برادری اورعالمی برادری سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ بیت المقدس میں غیرقانونی یہودی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کریں۔

