الخلیل کے اوقاف ڈائریکٹوریٹ ذرائع نے بتایا ہے کہ قابض فورس نے مزعومہ یہودی عید کے باعث مسجد ابراہیمی کو آج بروز اتوار اور کل مسلمان نمازیوں کے لئے بند کر ریا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہودی آبادکاروں کو اس مقدس حرم کی پامالی کرنے کی اجازت دینا ہے۔ اسرائیلی حکام نے فلسطینی اہل علاقہ کو مسجد کے قریب آنے سے روکنے کے لئے سخت حفاظتی اقدامات کئے ہیں۔
الحرم الابراہیمی کے ڈائریکٹر الشیخ منذر ابو الفیلات نے ایک بیان میں مسجد کو مسلمانوں کے لئے بند کرنے کے اقدام کو اللہ کے گھر پر جارحیت اور مسلمانوں کے مشاعر کے خلاف ہرزہ سرائی پر محمول کیا ہے۔
یاد رہے سنہ 1994ء میں الحرم الابراہیمی میں انتہا پسند یہودی باروخ گولڈسٹائن کے ہاتھوں ستر سے زاید نمازیوں کی شہادت کے بعد سے اسرائیلی حکومت نے ہر سال مسجد کو دس دنوں تک بند رکھنے کا ظالمانہ اقدام شروع کر رکھا ہے۔
مسجد ابراہیمی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جائے پیدائش تاریخی شہر الخلیل میں واقع ہے۔ اس پر اسرائیل کا قبضہ ہے جبکہ شہر میں بسنے والے چار سو یہودی آبادکاروں کو 1500 اسرائیلی فوجی سیکیورٹی فراہم کرنے پر مامور ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
