رپورٹ کے مطابق گذشتہ روز اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے بغیر کسی پیشگی نوٹس کے فلسطین کے کئی علاقوں میں الاقصیٰ چینل کی نشریات جام کردی تھیں جس کے بعد فلسطین کے عوامی حلقوں کی جانب سےبھی سخت احتجاج کیا گیا تھا۔
غزہ میں وزارت اطلاعات ونشریات کی جانب سے جاری کردہ ایک ایک مذمتی بیان میں اقصیٰ چینل کی نشریات کی بندش کو فلسطینی ذرائع ابلاغ کا گلا گھونٹنے کی گھناؤنی سازش قراردیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے اس اقدام سے واضح ہوگیا ہے کہ دشمن کو فلسطین کے گلی کوچوں میں ہونے والے احتجاج اور اس کی کوریج کسی صورت میں برداشت نہیں ہے۔ جس کے بعد صہیونی ریاست فلسطینی ذرائع ابلاغ کے خلاف اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطین میں اسرائیل کے خلاف طاقت تحریک مزاحمت جاری ہے۔ دوسری جانب صہیونی فوج نہتے فلسطینیوں کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کررہے ہیں۔ ایسے میں تمام حالات کی پیشہ وارانہ کوریج فلسطینی ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری ہے مگر صہیونی ریاست اپنی جنگی جرائم کو چھپانے کے لیے فلسطینی میڈیا گردن دبوچنے کی سازشوں پرعمل پیرا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اقصیٰ ٹی وی چینل سمیت کئی دوسرے اداروں کی نشریات بند کرکے انہیں بھوک ہڑتالی صحافی محمد القیق کے حق میں آواز بلند کرنے کی سزا دی گئی ہے مگر فلسطینی قوم صہیونی دشمن کی پالیسیوں کو کسی صورت میں قبول نہیں کرے گی۔ بیان میں عالمی ذرائع ابلاغ سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ صہیونی ریاست کے مظالم کو بے نقاب کرنے اور اقصٰی ٹی وی چینل کی نشریات جام کرنے کے خلاف آواز بلند کریں اور چینل کی نشریات کی بحالی کا کھل کر مطالبہ کریں۔
