
صہیونی عدالت نے منگل کے روز چھ ماہ کی حراست پوری کرنے والے محمد ابو طیر کے کیس کی سماعت کی انہیں مزید چھ ماہ تک حراست میں رکھنے کی ہدایات جاری کردی ہیں جس کے بعد فلسطین بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی حکومت نے دسمبر 2010ء میں ساٹھ سالہ ابو طیر کو القدس سے تعلق رکھنے والے دیگر تین اراکین پارلیمان کو مقدس شہر چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ صہیونی حکم نامے کے رد کرتے ہوئے چاروں افراد نے القدس میں ہی ریڈکراس کے دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا شروع کر دیا تھا۔ بعد ازاں شیخ ابو طیر کو رام اللہ ہجرت پر مجبور کر دیا گیا جہاں سے ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے سنہ 2006ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعد حماس کے چالیس کے لگ بھگ اراکین پارلیمان کو حراست میں لے لیا تھاجن میں شیخ ابو طیر بھی شامل تھے۔ انہیں تین سال قید رکھ کر رہا کیا گیا تھا۔
گزشتہ برس عرب ممالک کے انقلابات اور فلسطینی تنظیموں میں مفاہمت کے بعد سے اسرائیل نے فلسطینی اراکین پارلیمان اور عام شہریوں کی گرفتاریاں تیز کر دی ہیں اور اس وقت 46 سو سے زائد فلسطینی صہیونی عقوبت خانوں میں مقید ہیں جن میں 27 اراکین پارلیمان بھی شامل ہیں
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
