فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام نے رام اللہ شہر کے شمال مغرب میں واقع گاؤں ”تقع” کے قریب نسلی امتیاز کی مظہر دیوار کا رخ اس بنا پر تبدیل کر لیا ہے تاکہ اس علاقے سے تیل کی تلاش کی کوشش کی جاسکے۔
ذرائع نے بتایا کہ رام اللہ کے شمال میں واقع گاؤں رنتیس کے قریب سے گزرنے والے دیوار کےراستے میں تبدیلی کرلی گئی ہے کیونکہ قلقیلیہ اور رام اللہ تک کے اس علاقے میں پٹرول، قدرتی گیس کے کنویں موجود ہیں۔
فلسطینی سرکاری کے اندازوں کے مطابق اسرائیل نے اس علاقے سے پٹرول اور قدرتی گیس نکالنا شروع کردی ہے۔ جس کنویں سے تیل نکالا جارہا ہے اسے ”مجد 5” کا نام دیا گیا ہے۔ اس خطے میں اربوں بیرل تیل اور 18 کروڑ مکعب میٹر گیس موجود ہے۔ اسرائیل نے گاؤں کے کافی قریب کنواں کھودا ہے، کہا جا رہا ہے کہ ”مجد 5” سے ایک ہزار بیرل تیل اور دس لکھ مکعب فٹ گیس نکالی جا سکتی ہے۔
علاقہ مکینوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ اسرائیل اورامریکا کی فوجیں بھی اس علاقے میں تربیتی مشقیں کر رہی ہیں جس سے علاقے پر بڑے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور یہاں پر خشکی کے جانور ناپید ہوتے جارہے ہیں۔
انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے حالیہ اسرائیلی کارروائیوں میں اس گاؤں اور یہاں کے وسائل کو اس بے دردی سے لوٹے جانے پر استفسار کیا کہ یہودی بستیوں کی تعمیر اور فلسطینیوں کی سرزمین ہتھیانے پر بھی فلسطینیوں کی مدد کیوں نہیں کی جارہی؟ انہوں نے کہا کہ گیس اورآئل کی تلاش کے اس منصوبے پر رومانیہ کی کمپنی کام کر رہی ہے اور یہ سارا پروجیکٹ مغربی کنارے کی حدود میں ہو رہا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
