ایک فلسطینی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت نے گزشتہ روز مقبوضہ مشرقی القدس کی مختلف کالونیوں پر دھاوا بول کر گیارہ رہائشی مکانات کو منہدم کردیا ہے۔ ان انہدامی کارروائیوں القدس کے 100 سے زائد افراد ہجرت پر مجبور ہوگئے ہیں جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں۔
”وادی حلوہ اسٹڈی سنٹر” نے بدھ کے روز جاری کردہ اپنی رپورٹ میں بتایا کہ القدس کی اسرائیلی بلدیہ نے فوج اور پولیس کی بھاری نفری کے تحفظ میں الطور کالونی اور جبل المبکر کے علاقوں میں سات گھر گرائے۔ اسی طرح جبل المکبر کے علاقے میں چار رہائشی تعمیر منہدم کردی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے گرائے جانے والے گھروں کی تعمیر کو اس وجہ سے غیر قانونی قرار دیا کہ ان کی تعمیر سے قبل بلدیہ سے اجازت نہیں لی گئی۔ اور یہ تمام گھر اس اراضی پر تعمیر کیے گئے تھے جہاں پر مجوزہ ”یہودی قومی باغات” کی تعمیر ہونا تھی۔ رپورٹ کے مطابق گھروں کے مالکان کو اس انہدامی کارروائی سے قبل کسی قسم کا نوٹس کا اطلاع بھی نہیں دی گئی تھی۔
وادی حلوہ اسٹڈی سنٹر نے جبل المکبر میں ڈھائے جانے والے ایک گھر کے مالک کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے 1973 میں یہ گھر تعمیرکیا تھا، اس وقت یہ گھر دو ایکڑ پر مشتمل تھا، اس وقت سے اسرائیل ان سے یہ گھر خریدنے کی کوشش کر رہا تھا مگر ان کا خاندان گھر بیچنے سے مسلسل انکاری تھا۔
مالک مکان نے بتایا کہ گھر کی تعمیر کی اجازت کے لیے انہوں نے تمام متعلقہ اسرائیلی اداروں سے رجوع کیا تھا مگر کسی بھی ادارے نے اس گھر کی تعمیر کی اجازت نہیں دی تھی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
