مقبوضہ فلسطین کے جنوبی علاقے نقب کے مقامی فلسطینی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت اس علاقے کو فلسطینی عربوں سے خالی کرنے کے لیے پیاس کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔
صہیونی حکومت پانی کی قلت پیدا کرکے یہاں کے مکینوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہے۔ عرب دیہاتوں کے ڈسٹرکٹ کمیٹی کے سربراہ ابراھیم وقیلی نے بتایا کہ نقب کے عرب علاقوں میں پانی کی بندش اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے ان علاقوں میں پانی نہ بھیجنے کی پالیسی کی وجہ سے یہاں بسنے والے ستر ہزار عرب فلسطینی سخت مشکلات سے دوچار ہیں۔ قبل ازیں نقب میں غیر تسلیم شدہ فلسطینی دیہاتوں کے ہزاروں رہائشیوں نے اسرائیلی واٹر کمپنی ’’مکوروت‘‘ کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے پانی کی قیمتیں پڑھانے اور ان علاقوں پر پانی کی رسائی نہ کرنے پر صہیونی حکومت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔
ابراھیم وقیلی نے خبر رساں ایجنسی ’’قدس پریس‘‘ سے بات کرتے ہوئے کا کہ نقب میں بسنے والے سیکڑوں خاندان پانی کے کنکشن کے حصول کی درخواست دے چکے ہیں مگر اسرائیلی واٹر اتھارٹی نے اب تک ایک دو درخواستوں کی منظوری کے علاوہ کسی کو بھی پانی کی سہولت فراہم نہیں کی۔ وقیلی نے متنبہ کیا کہ اسرائیلی حکام یہودی خاندانوں کو پانی انتہائی کم قیمت پر دے رہے ہیں جبکہ فلسطینیوں کے لیے اسی پانی کی قیمت بہت زیادہ طلب کی جاتی ہے۔ سنہ 1948ء میں فلسطین کی اٹہتر فیصد اراضی پر قبضہ کرکے بنائی گئی یہودی ریاست کے جنوبی علاقے نقب کے رہنما نے بتایا کہ اس علاقے میں پانی نہ بھیجنا پانی کی قلت کے باعث نہیں ہے بلکہ اسرائیلی حکام بالقصد عربوں کو پانی سے محروم رکھ رہے ہیں اس سے ان کا مقصد عربوں کو نقب سے نقل مکانی پر مجبور کرنا ہے۔ صہیونی حکام ان دیہاتوں کو عربوں سے خالی کروا کر ان کی جائیدادوں اور اراضی پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
