(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ)مستعفی ہونے والے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے نام نہاد وزیر برائے "قومی سلامتی” ایتمار بن گویر نے اعتراف کیا ہے کہ صیہونی ریاست "مشرق وسطیٰ میں مذاق بن چکی ہے”، اور مزید کہا کہ "مجھے یقین نہیں ہے کہ اسرائیل کو اس بات کا ادراک ہے۔”
اسرائیلی ریڈیو کول باراما کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بن گویر نے صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "یقیناً امریکہ کے صدر کے سامنے کھڑا ہونا آسان نہیں ہے، لیکن میں نیتن یاہو سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ حقیقت بیان کرے، کہانیاں نہ سنائے۔”
بن گویر نے نیتن یاہو کو امریکی دباؤ کے حوالے سے مخاطب کرتے ہوئے کہا: "تم ہر وقت دباؤ کے مطابق کام نہیں کر سکتے۔”
غزہ کے مستقبل پر نسل کشی کی سازش
غزہ کے مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے، مستعفی وزیر نے اہلِ غزہ کو زبردستی بےدخل کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ "فلسطینیوں کے لیے رضاکارانہ ہجرت کے پروگرام کو فوری طور پر مضبوط بنایا جائے۔”
بن گویر نے مزید کہا کہ "رضاکارانہ ہجرت کو فروغ دینے کے لیے ایک نئی مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے”۔ ان کے مطابق، "ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ ابھی وقت ہے، لیکن اسرائیل کے مفاد میں وقت نہیں ہے۔”
فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے لیے نئی وزارت کی تجویز
اسی تناظر میں، بن گویر نے "وزارت برائے رضاکارانہ ہجرت” کے قیام کا مطالبہ کیا، جس کا مقصد اہلِ غزہ کو جبری طور پر ہجرت پر مجبور کرنا ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ وزارت ان کی جماعت "عوتسما یهودیت” (یہودی طاقت) کے تحت ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا: "اگر نیتن یاہو مجھ سے کہے کہ وہ یہ چاہتا ہے، تو میں اس کے ساتھ ہوں۔”
منگل کے روز، بن گویر کی جماعت "عوتسما یهودیت” نے صیہونی پارلیمنٹ کنیسٹ میں ایک بل پیش کیا، جس کا مقصد "غزہ کے شہریوں کی رضاکارانہ ہجرت کو فروغ دینا” ہے۔
