
ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایک منظم منصوبے کے تحت علماء اور دینی قوتوں کے نمائندوں کو مسجد اقصیٰ میں دورے کرا کر انہیں بلیک میل کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ مسلمان علماء کے اسرائیلی اجازت ناموں اور ویزوں پر مسجد اقصیٰ کے دورے نہ صرف اسرائیلی قبضہ تسلیم کرنے کی سازش ہیں بلکہ یہ قبلہ اول کی حمایت سے دستکش ہونے کے بھی مترادف سمجھے جائیں گے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مقبوضہ فلسطین میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ رائد صلاح نے کہا کہ عالم اسلام کے مسجد اقصیٰ، فلسطین اور بیت المقدس کے بارے میں کمزور موقف سے اسرائیل کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔، یہی وجہ ہے کہ وہ اس نازک موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمان علماء کے مسجد اقصیٰ کے دورے کرا کر دنیا کے سامنے اپنی گرتی ساکھ بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
بزرگ فلسطینی لیڈر شیخ رائد صلاح نے مصر اوراردن سمیت مختلف ممالک کے علماء کے دورہ مسجد اقصیٰ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے دورے قبلہ اول پر صہیونیوں کے قبضےکو تسلیم کرنے مترادف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چاہیے تو یہ تھا کہ عالم اسلام کی جانب سے اسرائیل پر مسجد اقصیٰ پر تسلط ختم کرنے اور بیت المقدس کو آزاد کرانے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا لیکن ایسا نہیں کیا جا رہا بلکہ اس کے برعکس کمزوری کا شکار مسلمان علماء بھی اب اسرائیلی قبضے کے تسلسل میں مسجد اقصیٰ کے دورے کرنے لگے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ مسجد اقصیٰ کے دورے کی مخالفت صرف اس بناء پرکررہے ہیں کہ یہ دورے اسرائیل کی اجازت سے ہو رہے ہیں۔ مسلمان اپنے طورپراسرائیلی اجازت کے بغیر بیت المقدس کا دورہ کریں اور دنیا کو یہ پیغام دیں کہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ پرحق صرف مسلمانوں اور عالم اسلام کا ہے، دنیا کی کسی دوسری قوم کا اس پر کوئی حق نہیں ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
