اقوام متحدہ کی خصوصی کمیٹی برائے انسداد نسلی امتیاز کی فلسطین اور عرب علاقوں سے متعلق شاخ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ برتے جانے والےامتیازی سلوک کو فوری طور پر بند کر دے۔
انسانی حقوق کی کمیٹی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948ء کے علاقوں میں مقیم فلسطینیوں کے بارے میں ایسے قوانین وضع کر رکھے ہیں جو نسلی امتیاز کے زمرے میں آتے ہیں۔ اسرائیلی کنیسٹ کی جانب سے منظورکردہ ان غیرمنصفانہ قوانین کو فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے۔
اقوام متحدہ کی خصوصی کمیٹی کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی انتظامیہ فلسطینیوں کےخلاف نہایت ظالمانہ اور نسلی امتیاز پر مبنی رویوں پرعمل پیرا ہے۔ کسی بھی علاقے میں اقلیتوں کے بارے میں وضع کردہ انسانی حقوق اور بنیادی حقوق کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ فلسطینیوں کےخلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی منظم مہم آج نہیں بلکہ عرصہ دراز سے جاری ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور عالمی برادری سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ فلسطینیوں کےخلاف اسرائیل کے ظالمانہ سلوک کو ختم کرانے اور انہیں برابر کا شہری قرار دلوانے کے لیے صہیونی حکومت پر دباؤ ڈالیں۔
خیال رہے کہ صہیونی حکومت کی جانب سے مقبوضہ فلسطین کے علاقوں میں مقیم فلسطینیوں اورغیر یہودیوں کو تیسرے درجے کے شہریوں کے حقوق بھی حاصل نہیں ہیں۔ روزگار، تعلیم، صحت اور اس کے علاوہ کئی دیگر بنیادی سہولیات سےمحروم رکھا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سنہ 2011ء میں مقبوضہ علاقوں میں جہاں ایک جانب انتہا پسند یہودیوں کو آباد کاری کی کھلی اجازت ہے وہاں فلسطینیوں کا ایک بھی مکان تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

