اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق صہیونی حکام نے مشرقی القدس کے علاقے جبل المشارف کے جنوبی جانب اسرائیلی فوج کے نئے مرکز کی تعمیر کا فیصلہ کرلیا ہے جس پر کام جلد شروع کردیا جائے گا۔ یہ منصوبہ بھی قبلہ اول کے اطراف پھیلے اس بابرکت شہر کو یہودیانے کے پروگرام کا ایک حصہ ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیل 1948ء میں اس مقدس شہر کے مغربی، 1967ء میں اس کے مشرقی حصے پر قبضہ کرکے 1980ء میں پارلیمان میں ایک قانون کے تحت دونوں حصوں پر مشتمل القدس کو اپنا ابدی دارالحکومت قرار دے چکا ہے۔ مشرقی القدس میں موجود قبلہ اول اور دیگر تاریخی اسلامی مقدس کو مٹانے اور اس شہر کی آبادی کے تناسب کو یہودیوں کے حق میں کرنے کی کوششیں کئی دہائیوں سے جاری ہیں۔ حالیہ منصوبہ بھی شہر کو یہودیانے کی سمت اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔
عبرانی زبان میں شائع ہونے والے ہفت روزے ’’یروشیلم‘‘ کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر گزشتہ ہفتے ڈسٹرکٹ پلاننگ اینڈ بلڈنگ کمیٹی میں بحث ہونا تھی تاہم اسے یہودی ’’عید فصح‘‘ کے بعد تک موخر کردیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے مطابق ہسپتال اگوسٹا فیکٹوریا کے قریب چودہ ایکڑ اراضی پر فوجی مرکز تعمیر کیا جائے گا۔
نئے منصوبے کے مطابق القدس میں گلیلیت چوک پر قائم فوجی کالج کو بھی اس نئے مقام کی جانب منتقل کردیا جائے گا۔ اس منصوبے کو پیش کرنے والی اسرائیل کی القدس ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے زور دیا ہے کہ شہر پر اپنا تسلط مضبوط کرنے اور اسے صہیونی ریاست کا دارالخلافہ بنانے کے لیے اسرائیلی فوج کے تمام کالج بشمول کمانڈ اینڈ سٹاف کالج اس شہر میں منتقل کرنا ہونگے۔
قبل ازیں ایھود اولمرٹ کی سربراہی میں مقبوضہ بیت المقدس کی صہیونی بلدیہ نے اسی قسم کے منصوبے شروع کیے تھے جس میں اسرائیلی کمان کے ہیڈ کوارٹر مشرقی القدس میں منتقل کرنے کی تجاویز بھی دی گئی تھی۔ تاہم شہر کے مخدوش حالات کے سبب ان منصوبوں کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا تھا۔
اس تازہ منصوبے کے مطابق مذکورہ اراضی کے دو ایکڑ پر اسرائیلی فوجی قیادت کے ہیڈ کوارٹر کے لیے جگہ بھی مخصوص کی گئی ہے۔ آٹھ ایکڑ پر 400 سٹوڈنٹ اور 130 اکیڈمک افراد کے لیے کالج تعمیر کیا جائے گا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

