اسرائیلی اخبار’’یدیعوت احرونوت‘‘ نے باخبر حکومتی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو اس کے محصولات کی ادائی کا فیصلہ ’مفت‘ میں نہیں کیا گیا بلکہ اس کے بدلے میں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے تل ابیب کو یہ یقین کرائی گئی ہے کہ وہ مغربی کنارے میں صہیونی فوج کے ساتھ سیکیورٹی تعاون جاری رکھے گی اور ساتھ ہی ساتھ عالمی فوج داری عدالت میں اسرائیل کے خلاف مقامات قائم نہیں کیے جائیں گے۔
تاہم اخباری رپورٹ میں فلسطینی اتھارٹی کے اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات کے دفتر کی جانب سے اس خبر کی تردید کی گئی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی تعاون جاری رکھنے یا عالمی فوج داری عدالت سے رجوع کا کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی ہیگ میں قائم انیٹرنینشل کریمینل کورٹ میں صہیونی ریاست کے جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے مقدمات تیار کرنے کی تیاری کررہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کا عالمی فوج داری عدالت کے ساتھ مسلسل رابطہ قائم ہے اور ہم اسرائیل کے جنگی جرائم کے بارے میں مقدمات کے قیام سے متعلق عالمی ماہرین قانون سے صلاح مشورہ بھی کررہے ہیں۔ اس لیے اسرائیلی اخبارات میں آنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے یکم جنوری 2015 ء سے فلسطینی اتھارٹی کے محصولات اس وقت روک لیے تھے جب فلسطین کی جانب سے عالمی فوج داری عدالت سے رجوع کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ حال ہی میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے روکے گئے فنڈز انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بحال کیے جا رہے ہیں۔
