برطانیہ میں سرگرم عرب انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ بہیمانہ تشدد چاہے انفرادی طور پر ہو یا اجتماعی طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مشتمل جرم ہے۔
تنظیم نے زور دیا کہ کسی ملک میں قومی عدالت کے ذمے ہے کہ اس طرح کے انسانیت کی بے حرمتی کرنے والے ان جلادوں کو سزا دے۔
منگل کے روز تنظیم نے تشدد کے خلاف عالمی دن کی مناسبت سے جاری اپنے بیان میں انسانی حقوق کی تمام تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ ظلم و تشدد کرنے والے ہر ظالم کا محاسبہ کریں۔
اس موقع پر تنظیم نے اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی جانب سے فلسطینی قوم پر ڈھائے جانے والے مذاکرات پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ تشویشناک بات یہ ہے کہ فلسطینی قوم پچھلی کئی دہائیوں سے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ظلم و جبر کا نشانہ بن رہی ہے کہ ظالم اسرائیل کے ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ صہیونی سکیورٹی فورسز چھوٹے بڑے سب کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ اسرائیل وہ واحد ملک ہے جہاں تعذیب و تشدد علی الاعلانکیا جاتا ہے اور اسے باقاعدہ جائز سمجھا جاتا ہے۔ یہ وہ ملک ہے جس نے اپنے قانون اور عدالتی نظام میں تشدد کو درست قرار دے رکھا ہے۔
عرب انسانی حقوق کی تنظیم نے اس موقع پر عرب قوموں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ تیونس، لیبیا اور مصر میں اجتماعی تشدد کے خلاف عرب قوم کا کھڑا ہوجانا لائق تحسین ہے۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ مصر میں حسنی مبارک کے دور میں لوگوں کو جیلوں میں اجتماعی تشدد کی سزا دی جاتی تھی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
