مقبوضہ بیت المقدس کے نامور عالم اور استاد ڈاکٹر مصطفٰی ابو صوی کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیل اپنے جرائم اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی وجہ سے تنہائی کا شکار ہوگیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کو دئیے جانے والے ایک خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر ابو صوی کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطینی کو حل کرنے میں فلسطینی قومی رہنمائوں اور علماء کا بہت بڑا کردار ہے جو کہ ذمہ داری سے انہیں نبھانا پڑے گا۔انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی فورم پر مسئلہ فلسطین کو فعال کرے اور فلسطین، بیت المقدس اور مسجد اقصٰی کی حمایت میں اقدامات اٹھائے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ فلسطین میں داخل ہونے والا کوئی بھی شخص مسجد اقصٰی میں موجود نمازیوں سے رکھے جانے والے ناروا سلوک، مغربی کنارے میں آبادکاری کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں، فلسطینیوں کے ساتھ تعصب پر مبنی سلوک کو باآسانی دیکھ سکتا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان جاری امن مذاکرات سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات برابری کی بنیاد پر نہیں ہورہے ہیں۔
اس ماحول میں مذاکرات سے فلسطینی اپنا کوئی بھی مطالبہ منظور نہیں کروا سکیں گے مگر وہ اسرائیلی مطالبات کو ٹھکرا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بیت المقدس کے رہائشی اسرائیلی بلدیہ کے ہونے والے انتخابات کا اس وجہ سے بائیکاٹ کررہے ہیں کیوںکہ اس عمل میں حصہ لینا غاصب حکام کے قبضے، یہودی بستیوں اور تعصبانہ پالیسیوں کو ماننے کے مترادف ہوگا۔
ڈاکٹر مصطفٰی ابو صوی فلاسفی اور اسلامک اسٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں اور بیت المقدس کی القدس یونیورسٹی میں اسلامک ریسرچ سنٹر کے ڈائریکٹر ہیں۔ انہون نے 1993ء میں بوسٹن کالج سے گریجوایشن کی تھی۔ اس کے علاوہ وہ مقامی اور بین الاقوامی فورمز پرعوامی ایشوز پر سرگرم رہتے ہیں۔ انہوں نے اسلام اور مسئلہ فلسطین کے مختلف مسائل پر کئی اخبارات میں مضامین لکھے ہیں۔
