اسرائیل اور یورپی یونین کے درمیان ایک تازہ سجھوتے میں یونین صہیونی ریاست کوسستی ادویہ کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے یورپی یونین اور صہیونی ریاست کے درمیان ہوئے
اس معاہدے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے غیرقانونی اور غیراخلاقی قرار دیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان ادویہ کی فراہمی کا تازہ معاہدہ حال ہی میں برسلز میں ہوئے ایک اہم اجلاس میں کیا گیا۔
ادھر لندن میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک عرب تنظیم نے اسرائیل اور یورپی یونین کے درمیان طے پائے ادویہ کی فراہمی کے معاہدے کی شدید مذمت کرتے ہوئےاسے انسانی حقوق، اخلاقی اقدار اور عالمی اصولوں کی خلاف ورزی قراردیا ہے۔
انسانی حقوق کے گروپ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین جو اپنے تئیں جمہوریت اور انسانی حقوق کی علمبرداری کی پرزور حامی اور دعویدار ہے اور دوسری جانب وہ فلسطینیوں پرمظالم ڈھانے والی صہیونی ریاست کے ساتھ سستی ادویہ کی فراہمی کا معاہدہ کرکے اپنے ہی منشور اور دستور کی خلاف ورزی کررہی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اب یہ بات مکمل طورپر پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ اسرائیل اپنے ہاں تیار کردہ جعلی ادویات کو تجربات کے طور پر فلسطینیوں پر استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح باہر سے منگوائی گئی دوائیوں کا بھی سب سے پہلے استعمال فلسطینی قیدیوں پرکیا جاتا ہے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ آیا ان کا مثبت اثر سامنے آیا ہے یا نہیں۔ صہیونی حکومت کا یہ ہتھکنڈہ یورپی یونین کے لیے قابل گرفت ہونا چاہیے اور یونین کو اپنی جانب سے فراہم کردہ ادویہ کے استعمال کی پوری انکوائری کرنی چاہیے۔
انسانی حقوق کی عرب تنظیم نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ صہیونی حکومت کے ساتھ ادویہ کے تبادلے یا سستی ادویہ کی فراہمی کا معاہدہ فوری طورپر منسوخ کرتے ہوئے فلسطینیوں کے ساتھ اپنی یکجہتی اور جمہوری طرز عمل کا مظاہرہ کرے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
