اسرائیلی حکومت کی جانب سے غیرفعال "املاک غائبین قانون” کو دوبارہ فعال کرنے کی کوششوں کے خلاف فلسطین میں سخت غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بیت المقدس کے تحفظ اور فلسطینیوں کے حقوق کے لیے سرگرم اداروں نے "املاک غائبین” قانون کو فعال کرنے کی سازشوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون کی آڑ میں صہیونی حکومت مقبوضہ بیت المقدس سے فلسطینیوں باشندوں کا نام و نشان مٹانے کی گھناؤنی سازش کی مرتکب ہو رہی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق بیت المقدس کی بہبود اور تعمیرو ترقی کے لیے سرگرم تنظیم”القدس ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن” کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی مہاجرین کی املاک متروکہ پر صہیونیوں کو ہاتھ صاف کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینی باشندوں کی جائیدادیں اور ان کی اراضی غصب کرنے کے لیے املاک غائبین جیسے سیاہ قوانین کی سخت مزاحمت کی جائے گی اور صہیونی حکومت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہی ہے اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، جس کی تمام ذمہ داری صہیونی حکومت پرعائد ہو گی۔
فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی حکومت نے جتنے بھی منصوبے اور اسکیمیں شروع کی ہیں۔ ان میں سے ہر اسکیم کا اصل مقصد شہر کےاصلی باشندوں(فلسطینیوں) کے وجود کو ختم کر کے شہرمقدس پر ناپاک صہیونیوں کا غلبہ قائم کرنا ہے۔ اس مذموم مقصد کی تکمیل کے لیے صہیونی حکومت طرح طرح کے قوانین اور دیگر ہتھکنڈوں کا سہارا لے لیتی آئی ہے اور آج ایک مرتبہ پھر مسترد شدہ قانون املاک غائبین کو فعال کر کے فلسطینیوں کی نسل کشی کی سازش کی جا رہی ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ مقبوضہ بیت المقدس میں شہر چھوڑ کر جانے والوں کی تمام املاک اس وقت تک فلسطینی محکمہ اوقاف کے پاس امانت ہیں جب تک وہ واپس اپنی جائیدادوں پر قبضہ نہیں کرتے۔ اسرائیل کا اس پر کوئی حق نہیں ہے اور صہیونی حکومت اس قانون کی آڑ میں القدس کے باشندوں کو وہاں سے بے دخل کرنے کی گھناؤنی سازش کر رہی ہے۔
بیان میں عالم اسلام کی نمائندہ تنظیموں اسلامی تعاون تنظیم، عرب لیگ، خلیجی ملکوں اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے اپیل کی گئی کہ وہ فوری طور پر اسرائیلی حکومت کے وضع کردہ "املاک غائبین” قانون پرعمل درآمد روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر مسلم امہ نے بروقت کوئی قدم نہ اٹھایا تو بیت المقدس میں فلسطینیوں کو وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے بیت المقدس سے طاقت کے ذریعے نکالے گئے فلسطینیوں کی املاک اور زمینوں پر قبضے کے لیے کئی سال پہلے "املاک غائیبین” کے نام سے ایک قانون بنایا تھا جس کی آڑ میں ہزاروں فلسطینی خاندانوں کی املاک قبضے میں لی گئی تھیں۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی سخت تنقید کے بعد کچھ سال سے یہ قانون غیر فعال تھا، تاہم حال ہی میں اسی قانون کو فعال کرنے کے لیے ایک نیا قانون بنایا جا رہا ہے، جسے منظوری کے لیے صہیونی سپریم کورٹ میں بھجوانے کی تیاری ہو رہی ہے۔ اس نئے مجوز ہ مسودہ قانون میں اسرائیل کے خلاف مزاحمت میں ملوث یا اسرائیل مخالف کسی تنظیم سے تعلق کی بنیاد پر بیت المقدس کے خاندانوں کی اراضی اور جائیداد ضبط کر لی جائے گی۔ اس قانون کو فعال کیے جانے کی خبروں کے بعد انسانی حقوق کے حلقوں اور فلسطینیوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
