اسرائیلی زیر تسلط فلسطین کے ایک گاؤں کے باسیوں کی مشکلات اس وقت دو چند ہو گئیں جب اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی جانب سے گاؤں کے گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ تو کی ہی گئی
مگر اس جارحیت کے دوران اسرائیلی پولیس اہلکار اپنا پستول گم کر بیٹھے۔ کسی صہیونی اہلکار کی یہ نااہلی اہل قریہ پر قیامت بن کر ٹوٹی اور دیکھتے ہی دیکھتے پولیس کی بھاری نفری نے پورے گاؤں کا محاصرہ کر لیا اور اہلکاروں نے گھر گھر تلاشی کے دوران اہل خانہ کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔
اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی جانب سے مقبوضہ فلسطین کے شمالی ٹاؤن معاویہ کے شہریوں کے خلاف اس جارحانہ کارروائی پر صہیونی کنیسٹ میں عربوں کی نمائندگی کرنے والے رکن پارلیمان احمد الطیبی نے شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک پستول گم ہو جانے پر اسرائیلی پولیس نے جو کیا وہ اس اس گاؤں کے مکینوں کو دی جانے والی ایک اجتماعی سزا تھی۔
اسرائیلی پولیس نے گاؤں میں گھس کر پر تشدد کارروائیاں کیں۔ درجنوں افراد کو بغیر کسی وجہ سے گرفتار کیا۔ گھروں میں گھس کر اہل خانہ کو زدوکوب کیا گیا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اگر یہی پستول کسی یہودی گاؤں میں گم ہوا ہوتا تو کیا وہاں بھی اسرائیلی فورسز ایسا ہی آپریشن کرتیں۔
احمد الطیبی نے اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ پولیس کو اس گاؤں کا محاصرہ ختم کرنے کا حکم دیں اور گاؤں کے باسیوں کو اپنے پستول کی تلاش میں پولیس کے اس سرچ آپریشن سے نجات دلائیں۔
گاؤں کے ایک مکین خالد نھیا نے بتایا کہ اسرائیلی پولیس کے اہلکاروں نے گھر میں گھس کر ان کے اہل خانہ کو زدوکوب کیا اور ان پر وحشیانہ تشدد کیا ہے۔ ایک پولیس اہلکاروں نے ان کی بھابھی کو جان بوجھ کر گاڑی تلے بھی روند ڈالا ہے۔
اسرائیلی حکومت کی جانب سے سن 1948ء کے مقبوضہ فلسطین کے عرب شہریوں سے متعصبانہ رویے کی یہ پہلی مثال نہیں، بلکہ آئے روز اسرائیل اپنی کل آبادی کے 20 فیصد عرب شہریوں کو مختلف حیلے بہانوں سے ظلم و ستم کا نشانہ بناتا رہتا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
