اسرائیل کے شدت پسند وزیر دفاع ایہود باراک نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں بڑی یہودی کالونیوں پر مشتمل حصے کو صہیونی ریاست میں شامل کرے اور بقیہ مغربی کنارے کو ان بستیوں سے الگ تھلگ کر دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے زیرکنٹرول آنے والی کالونیوں میں مقیم یہودی آباد کاروں کو یہ اختیار دیا جائے کہ اگر وہ چاہیں تو وہاں سے اسرائیل منتقل ہو سکتے ہیں اور چاہیں تو فلسطینی اتھارٹی کے زیرکنٹرول علاقوں میں رہ سکتے ہیں۔
اسرائیلی اخبار‘‘یسرائیل ھیوم’’ کی رپورٹ کے مطابق وزیردفاع نے حال ہی میں کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغربی کنارے میں‘‘گوش عتصیون’’، آرئیل اور معالیہ ادومیم بڑے یہودی کالونیاں ہیں جہاں صرف یہودی آباد کار آباد ہیں۔ یہ کالونیاں عملا اسرائیلی ریاست کا حصہ ہیں اور انہیں ہرصورت میں اسرائیل ہی میں شامل کیا جانا چاہیے۔ حکومت ان کالونیوں کو اسرائیل میں ضم کرتے ہوئے مغربی کنارے کے بقیہ علاقوں کو ان کالونیوں سے الگ کرے۔ انہوںنے کہا کہ مغربی کنارے میں وادی اردن کو وہی حیثیت حاصل ہونی چاہیے جو بن غوریون شہر کوحاصل ہے یعنی یہاں پراسرائیلی فوج کا کنٹرول قائم کیا جائے۔
ایہود باراک نے تجویز دی کہ فلسطینی اتھارٹی کے زیرکنٹرول علاقوں میں موجود یہودی آباد کاروں کو بھی اسرائیل کے زیرانتظام کالونیوں میں لانے کے لیے انہیں معاوضہ فراہم کیا جائے۔ یہ یہودی آباد کار چاہیں تو سنہ 1948 ء کے مقبوضہ علاقوں میں قائم یہودی کالونیوں میں بھی رہ سکتے ہیں۔
انہوں نے ایک تیسراآپشن بھی ذکرکیا اور کہا کہ مغربی کنارے میں فلسطینی زیرانتظام علاقوں میں موجود یہودی آباد کاروں کو ان کی منشاء پرچھوڑ دیا جائے۔ تجرباتی طورپر انہیں پانچ سال کے لیے فلسطینی انتظامیہ کے حوالے کیا جائے۔ اس دوران اگر صہیونی ریاست انہیں وہاں پر محفوظ سمجھے تو انہیں نہ چھیڑے ورنہ ان کی حفاظت کے لیے متبادل بندوبست کیا جائے۔
ایہود باراک نے کہا کہ بہتر ہے کہ یہودی کالونیوں کے بارے میں فلسطین۔ اسرائیل سمجھوتہ طے پاجائے۔ اگر ایسا ممکن نہ ہوتو اسرائیل کو بہرحال یہودی آباد کاروں کو تحفظ فراہم کرنا چاہیے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
