اسرائیلی ادارے بتسلیم نے 26 اپریل کو رام اللہ میں عوفرہ یہودی بستی کے نزدیک ایک فلسطینی نوجوان پر گرفتاری کے دوران اسرائیلی فوج کے تشدد کو فلمایا ہے۔
ادارے نے یہ وڈیو جاری کی ہے جس میں اسرائیلی فوجی فلسطینی نوجوان محمد دار سعد کو شمالی رام اللہ کے المزارعہ الشرقیہ گائوں سے اغوا کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
بتسلیم کی اس رپورٹ کے مطابق دار سعد کو فلسطینی نوجوانوں اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان سلوان میں ہونے والے تصادم کے دوران حراست میں لیا گیا تھا اور انہیں اسرائیلی فوج پر پتھرائو کرنے کے الزام میں ایک ماہ قید میں رکھا گیا تھا۔
ادارے کے مطابق ” ایک فوجی کو دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ دار سعد کو گرفتار کررہا ہے اور انہیں زمین پر گرا کر ان پر تشدد کررہا ہے اس کے بعد دو اور فوجی آجاتے ہیں اور اس اسیر پر گھونسوں اور لاتوں کی برسات کردی۔”
یہ وڈیو اس حملے کے ایک ماہ بعد منظر عام پر آگئی تھی اور بتسلیم ادارے نے اسرائیل فوج سے ایک فوری اپیل کی تھی کہ جس میں اس حملے کے بارے میں تفصیلی تفتیش جاری کی جائے گی۔
بتسلیم کے مطابق "یہ صرف ان کے وکیل نیری رماتی کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے۔ جب یہ فوٹیج منظر عام پر آئی اس کے بعد فوجی پراسیکیوشین نے دار سعد کے خلاف پتھرائو کرنے کے الزامات واپس لئے اور انہیں رہا کردیا۔”
ادارے نے مزید بتایا کہ بہت سی اسرائیلی سرکاری پارٹیاں اس معاملے کی تفتیش میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ اس کے علاوہ موقع پر موجود فوجیوں اور افسروں نے اس واقعہ کو کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے کو نہیں بتایا حالانکہ ان کو ایسا کرنے کے بارے قانونی اور ملٹری احکامات ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
