اسرائیل میں رائے عامہ معلوم کرنے کے لیے کیے گئے ایک سروے کے مطابق سن 1948ء میں فلسطین کی اٹہتر فیصد اراضی پر قائم کی گئی ریاست کےنوجوانوں میں تعصب، ہٹ دھری اور ضد بڑھتی جا رہی ہے۔ تل ابیب یونیورسٹی کے شماریارتڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز میں آدھے یہودی طلبہ نے عرب آبادیوں کے قریب رہائش اختیار کرنے سے منع کر دیا ہے۔
معروف عبرانی روزنامے ’’ھارٹز‘‘ نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ سروے میں 410 طلبہ نے شرکت کی جن میں سے 55 فیصد نے عرب آبادیوں کے قریب رہنے سےانکار کر دیا ہے۔ 59 فیصد کا خیال ہے کہ کسی بھی عرب ملک کے ہمسائیگی کو رہنے سےانکار کرتے ہیں اور انہوں نے اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطین سےتمام فلسطینیوں کو نکال دیا جائے۔
معروف عبرانی روزنامے ’’ھارٹز‘‘ نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ سروے میں 410 طلبہ نے شرکت کی جن میں سے 55 فیصد نے عرب آبادیوں کے قریب رہنے سےانکار کر دیا ہے۔ 59 فیصد کا خیال ہے کہ کسی بھی عرب ملک کے ہمسائیگی کو رہنے سےانکار کرتے ہیں اور انہوں نے اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطین سےتمام فلسطینیوں کو نکال دیا جائے۔
بدھ کے روز کی اشاعت میں روزنامہ ھارٹز میں شائع سروے کےان نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج میں خدمات سرانجام دینے کے لیے تیار نوجوانوں کی شرح میں شدید کمی آئی ہے۔ سروے کے 60 فیصد شرکاء نے اس ضمن میں فوجمیں شامل ہونے سے انکار کیا جبکہ 39 فیصد کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں لازمی فوجی خدمات کو یہودی مذہبی طلبہ اور عرب فلسطینیوں پر بھی لاگو کی جائیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
