رپورٹ کے مطابق فلسطینی محکمہ امور اسیران کے چیئرمین عیسیٰ قرارقع نے رام اللہ میں القیق کے اہل خانہ اوربچں کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافی محمد القیق کو بھوک ہڑتال کیے اب تین ماہ ہونے کو ہیں، مگر قابض صہیونی انتظامیہ اور تل ابیب حکومت مسلسل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے القیق کو جان سے مارنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپنی بلا جواز انتظامی حراست کے خلاف بھوک ہڑتال کرنے والے محمد القیق لمحہ بہ لمحہ موت کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ صہیونی ملٹری پراسیکیوٹر جنرل کی ہدایت پر اسرائیلی سپریم کورٹ نے بھی محمد القیق کو فلسطینی اسپتال منتقل کرنے کی درخواست مسترد کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ اسرائیل میں انصاف نام کی کوئی چیزنہیں ہے۔
عیسیٰ قراقع نے کہا کہ محمد القیق کے ساتھ جس طرح کی پالیسی روا رکھی گئی ہے وہ بدترین ظلم اور عالمی انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے۔ اس پرمزید ظلم یہ ہے کہ صہیونی فوجی انتظامیہ نے بھوک ہڑتالی قیدی کے ساتھ اس کے اہل خانہ کی ملاقات پربھی پابندی عائد کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ اسرائیل محمد القیق کو ہرصورت میں ختم کرنے کے در پے ہے۔
انہوں نے القیق کے اہل خانہ کی جیل میں قید اپنے بھوک ہڑتالی عزیز کے ساتھ ملاقات پرپابندی کی شدید مذمت کی اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ القیق کی جان بچانے اور اس کی فوری رہائی کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالے۔
خیال رہے کہ محمد القیق نے کو اسرائیلی فوجیوں نے اکیس نومبر کو قابض فوج نے مغربی کنارے سے حراست میں لیا۔ کئی ہفتوں تک اسے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے کےبعد اسے چھ ماہ کے لیے انتظامی حراست کی سزا سنا دی گئی تھی۔ اس پرمحمد القیق نے بلا جواز انظامی قید کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کردی۔ آج اس کی بھوک ہڑتال کو 89 دن گذر چکے ہیں اور اس کی حالت نہایت تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔
