فلسطین میں انسانی حقوق کے لئے سرگرم حلقے ان دنوں اسرائیلی حکومت کے خلاف قانونی جنگ میں مصروف ہیں جس کا مقصد تل ابیب کو ان فلسطینیوں کے لواحقین کو معاوضہ دینے کا پاپند کرنا ہے کہ جو اسرائیلی فوج کی گولیوں کا شکار بن کر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ یاد رہے اسرائیل سول نقصانات کے ازالے سے متعلق قانون میں ترمیم کر کے اپنی ریاستی ذمہ داری سے فرار اختیار کر رہا ہے۔
اسرائیلی عدالت نے صہیونی مظالم کا نشانہ بننے والے فلسطینیوں کے نام پر فلسطینی ہیومن رائٹس سینٹر کی جانب سے دائر تین الگ الگ مقدمات دائر مقدمات خارج کر دیئے ہیں۔ اسرائیلی قانون میں کی گئی ترمیم صہیونی حکام کو ‘دشمن کے علاقے میں’ فوجی کارروائی یا ‘لڑائی’ سے ہونے والے نقصان کہ ذمہ داری سے مکمل بریت فراہم کرتی ہے۔
انسانی حقوق سینٹر کے ڈائریکٹر راجی الصورانی کا کہنا ہے کہ ایسے حربوں کے ذریعے اسرائیل اپنے جنگی جرائم اور روزمرہ کی بنیاد پر کی جانے والی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کی مسئولیت قبول کرنے سے فرار چاہتا ہے۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل اپنی فوجی کارروائیوں میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنے کی قانونی ذمہ داری سے انکار کر رہا ہے۔
قدس پریس سے بات کرتے ہوئے الصورانی نے کہا کہ ان حالات کا تقاضہ ہے کہ بین الاقوامی عدالتی فورمز سے رجوع کیا جائے تاکہ صہیونی زیادتی کا شکار ہونے والے فلسطینیوں کو انصاف دلایا جا سکے۔ "اسرائیل، ایسے تصرفات کر کے ثابت کر رہا ہے کہ اس کی ریاست گردی پر کسی بین الاقوامی قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے پورے مقبوضہ فلسطینی علاقے کو ‘جنگی زون’ قرار دے رکھا ہے۔ اسرائیل نے سن 2007ء سے غزہ کی پٹی سے کسی بھی فلسطینی کو اسرائیلی عدالت میں مقدمہ دائر کرنے یا بطور گواہ پیش ہونے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اس پابندی کے نتیجے میں متعدد زیر سماعت مقدمات کو عدم پیروی کا بہانہ بنا کر خارج کر دیا جاتا ہے۔
راجی الصروانی نے بتایا کہ اسرائیلی حکومت نے قانونی چارہ جوئی کا عمل انتہائی پیچیدہ بنا رکھا ہے۔ درخواست گذار پر لازم ہے کہ وقوعہ کے ساٹھ دن کے اندر اندر وہ نقصان کے ازالے کے لئے درخواست دے سکتا تھا۔ ایسے مقدمات میں طلب کئے گئے عوضاونے کی رقم پر سات فیصد کورٹ فیس وصول کی تھی.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی قانون میں کی گئی آٹھویں ترمیم کسی طرح بھی بین الاقوامی قوانین پر پورا نہیں اترتی کیونکہ ریاست کے کسی بھی شہری کا حکومتی مشینری کے ذریعے ہونے والے نقصان کو پورا کرنا اسکا بنیادی حق ہے۔
نیز اسرائیل 1949ء کے چوتھے جنیوا کنونشن پر دستخط کے بموجب اس بات کا پابند ہے کہ جنگ کی صورت میں نہتے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ ایسے میں صہیونی ریاست کو اپنی فوجی کارروائیوں میں ہونے والی سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے مبرا قرار نہیں دیا جا سکتا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
