فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس میں اہم اور حساس نوعیت کے مقامات کی سیکیورٹی اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے خوف کے پیش نظر اسرائیلی فوج نے رات کو روشنی پیدا کرنے والے گولے فضاء میں چھوڑنا معمول بنا لیا ہے۔
عینی شاہدین نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ گذشتہ دو راتوں سے اسرائیلی فوج نابلس میں بعض مقامات پر تواتر کے ساتھ روشنی پیدا کرنے والے گولوں کو فضاء میں چھوڑ رہی ہے تاکہ ممکنہ طور پر فلسطینی مزاحمت کاروں کی اسرائیلی فوج کے کیمپوں میں دراندازی کو روکا جا سکے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ گذشتہ شب جبل جرزیم اور وحلہ العامود کے مقامات پر اسرائیلی فوج کے روشنی کے گولوں سے رات کو شہر کی فضاء روشن رہی۔ فلسطینی شہری بھی اسرائیلی فوج کے آپیٹیکل بموں کو دیکھ کر محظوظ ہوتے رہے۔
پی آئی سی کے نامہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے روشنی کے گولوں کے فضاء میں چھوڑنے سے فلسطینی شہریوں میں خوف بھی پایا جا رہا ہے۔ ممکنہ طور پر اسرائیلی فوج نابلس میں فلسطینی مزاحمت کاروں کی نقل وحرکت جاننے کے لیے ایسا کر رہی ہے اور یہ امکان موجود ہے کہ نابلس میں فلسطینی شہریوں کی تحریک انتفاضہ کی آڑ میں اگلے مرحلے پر فلسطینی آبادیوں میں بمباری کا سلسلہ شروع کر دیا جائے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
