اسرائیلی فوج نے گزشتہ برس حماس کے ساتھ تبادلہ اسیران معاہدے کے تحت رہا ہونے والی فلسطینی اسیرہ ھناء یحیی کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے۔اسرائیلی فورسز کے اہلکاروں نے جنین کے مغربی گاؤں برقین میں بھی فلسطینی رکن پارلیمان کے گھر اور دفتر پر حملہ کرکے اہل خانہ کو زدو کوب بھی کیا ہے۔
اسیرہ یحینی الشلبی کے اہل خانہ کے قریبی ذرائع نے نامہ نگار ’’ مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کو بتایا کہ اسرائیلی فوج کی بڑی تعداد نے گھر پر رات ڈیڑھ بجے کے قریب دھاوا بولا اور گھر میں موجود اشیاء کی توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ صہیونی فورسز کی متعدد گاڑیوں نے گھر کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ پہلے فوجی اہلکاروں نے گھر کے تمام افراد کو ایک کمرے میں بند کیا اور بعض کو سخت سردی میں گھنٹوں باہر کھڑے کی ارکھا۔ بعد ازاں صہیونی اہلکار صبح چار بجے تک گھر کی باریک بینی سے تلاشی لیتے رہے۔ جس کے بعد ھناء شلبی کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام منتقل کر دیا گیا۔
شلبی کے گھر والوں نے تبادلہ اسیران معاہدے کے ثالث مصری حکام سے اس معاملے میں فوری مداخلت کرنے اور معاہدے پر عمل درآمد کی یقین دہانی کا مطالبہ بھی کیا۔ خیال رہے کہ گزشتہ برس اٹھارہ اکتوبر اور اٹھارہ دسمبر کو دومرحلوں میں ’’تبادلہ اسیران‘‘ معاہدے کے نتیجے میں ایک مزاحمت کاروں کے زیر حراست فلسطینی فوجی گیلاد شالیت کی رہائی کی بدلے 1027 فلسطینی اسیران رہا کیے گئے تھے۔اس معاہدے میں مصر نے ثالث کا کردار ادا کیا تھا۔
دوسری جانب اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے جنین شہر میں فلسطینی پارلیمان میں ’’تبدیلی و اصلاح‘‘ بلاک سے تعلق رکھنے والے رکن ابراھیم دحبور کے گھر اور دفاتر حملہ کیا اور متعدد ضروری دستاویز اور اشیاء قبضے میں لےلیں ۔
ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کے ہمراہ انٹیلی جنس ایجنسی کے اہلکاروں کا گروہ بھی اس حملے میں شریک تھا۔ ادھر اسرائیلی فوج کےاہلکاروں نے اراکین پارلیمان خالد سلیمان اور خالد سعید کے گھروں پر بھی دھاوے بولے اور دیر تک ان اراکین سے پوچھ گچھ کی۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے کیے جانے والے حملوں پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے رکن پارلیمان دحبور نے کا کہ یہ حملہ بھی فلسطینی پارلیمنٹیرینز کے خلاف حملوں کی شروع کی گئی مہم کا ہی ایک حصہ تھی۔
خیال رہے کہ صہیونی سکیورٹی فورسز نے اس وقت تیس کے لگ بھگ فلسطینی اراکین پارلیمان کو حراست میں لے رکھا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

