مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق "مرکز ترقی برائے آزادی ابلاغ” [مدیٰ] کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگست کے دوران فلسطین علاقوں میں صہیونی افواج کے ہاتھوں آزادی اظہار رائے کی پچاس بار خلاف ورزیاں کی گئیں۔
اس سے قبل جولائی میں نسبتا کم قدغنیں لگائی گئی تھیں جب کہ جون کے مہینے میں بھی آزادی اظہار کی پچاس خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔ جولائی میں آزادی اظہار رائے پرپابندی کے 17 واقعات رونما ہوئے جب کہ اگست میں ان میں 194 فی صد اضافہ ہوا۔
پابندیوں میں صہیونی افواج کی جانب سے غزہ کی پٹی، مغربی کنارے اور بیت المقدس کے صحافیوں کو معمول کے واقعات کے کوریج سے روکنا، صحافیوں کو بیرون ملک سفر پرپابندیاں عاید کرنا، ذرائع ابلاغ کے نمائندوں پر تشدد اور انہیں گرفتار کرنا، صحافیوں کے کیمرے توڑنا اور ان کا سامان ضبط کرنا جیسے واقعات سر فہرست ہیں۔ اگست کے دوران مغربی کنارے میں ایک میڈیا کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں غزہ کی پٹی کے 28 صحافیوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی مگر صہیونی حکام کی جانب سے غزہ کے صحافیوں کے غرب اردن میں داخلے پرپابندی عاید کردی گئی تھی۔ اگست کے دوران صہیونی فوجیوں کی جانب سے صحافیوں پر تشدد کے 37 واقعات رونما ہوئے۔
