مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل کے مشرق میں واقع فلسطینی گائوں بنی نعیم سے تعلق رکھنے والے ایک بچے کو اسرائیلی فوج نے علی الصباء حراست میں لے لیا۔
مقامی ذرائع نے مرکز اطلاعات فلسطین کے نمائندے کو بتایا کہ اسرائیلی فوج نے 13 سالہ محمود مناصرہ کے گھر پر چھاپہ مارا اور تلاشی لینے کے بعد اسے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
اسرائیلی فوج نے اس ماہ کے آغاز سے ہی الخلیل میں حراستی مہمات پر زور دے رکھا ہے۔ الخلیل سے 160 شہریوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے جن میں بچوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کی فلسطینی اسیران سوسائٹی نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے بنی نعیم قصبے سے اس ماہ کے دوران 10 فلسطینی بچوں کو حراست میں لیا ہے۔
احمد مناصرہ نامی بچہ جسے کچھ دن قبل حراست میں لے کر پھر رہا کردیا گیا تھا، کہتا ہے کہ جیل میں انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور صیہونی فوجی بچوں پر تشدد کرتے ہیں۔
احمد کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج نے اس سے ایک خالی کاغذ پر دستخط کروانے کی کوشش کی تھی مگر اس نے انکار کردیا تھا۔ پھر اسے عوفر جیل منتقل کردیا گیا جہاں پر انہیں ایک جج کے سامنے پیش کیا گیا اور انہیں ایک ہزار شیکل ضمانت کے بدلے رہا کردیا گیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
