فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے تاریخی شہر الخلیل کے شمال میں بیت امر کے مقام پر اتوار کے روز صہیونی ریاستی دہشت گردی کے خلاف فلسطینیوں
کے ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران قابض فوج کے تشدد سے ایک بچے سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ کئی شہریوں کوحراست میں بھی لے لیا گیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق الخلیل میں نسلی دیوار کی مزاحمتی کمیٹی کے رکن محمد عوض نے میڈیا کو بتایا کہ صہیونی فوج اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب قابض فوج نے بیت امر میں تلاشی کے دوران ایک گھر میں گھس کر ایک کم عمر بچے کو گرفتار کرنے کی کوشش کی۔ اس پر فلسطینیوں نے صہیونی فوجیوں کے ساتھ مزاحمت کی۔ جواب میں قابض فوج نے نہتے فلسطینیوں کو لاٹھیوں اور گھونسوں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ فلسطینیوں نے صہیونی فوج کی جارحیت کے خلاف احتجاج شروع کیا تو انہیں منشتر کرنے کے لیے ان پر اشک اْور گیس کے گولے پھینکے گئے۔ جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
محمد عوض نے بتایا کہ بیت امر میں صہیونی فوج کے تشدد سے چھپن سالہ شریف حسن ابو ھاشم نامی شہری کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی ہے جسے شدید زخمی حالت میں الخلیل کے ایک اسپتال میں لے جایا گیا ہے۔ ادھر بیت امر میں صہیونی فوج نے تلاشی کے دوران سابق اسیر رہ نمااحمد ابو خلیل کے گھر پر بھی چھاپہ مارا اور ان کے بیس سالہ بیٹے یوسف کو حراست میں لینے کی کوشش کی۔ خیال رہے کہ یوسف ھشام کو تین ماہ قبل صہیونی جیل سے رہا کیا گیا تھا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
