اسرائیلی قابض فوج نے مسجد ابراہیمی میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے آنے والے متعدد نوجوانوں کو مسجد کے داخلی دروازے پر حراست میں لے لیا۔
عینی شاہدین کے مطابق فوجیوں نے نوجوانوں کو نماز پڑھنے سے روکے رکھا اور انہیں مسجد کے مرکزی دروازے کے باہر کھڑا کرکے ان کی شناخت چیک کرتے رہے۔
تمام نوجوانوں کو جمعہ کی نماز کے بعد رہا کر دیا گیا تھا مگر 18 سالہ عاصم عطا تمیمی کو مطلوب قرار دے کر گرفتار کرلیا گیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق اسی دوران اسرائیلی حکام نے نابلس کے جنوب میں واقع زعترہ ناکے پر سیکیورٹی کو سخت کر دیا اور گاڑیوں کی تلاشی کا سلسلہ شروع کردیا۔
اس اقدام کی کوئی واضح وجہ نظر نہیں آتی۔ مگر تقریبا تین ہفتے قبل ناکے کے نزدیک ایک یہودی آبادکار کے قتل کے بعد سے اس علاقے میں اسرائیلی فوج نے اپنی موجودگی بڑھا دی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
