اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق صہیونی فوج نے پیر کے روزعلی الصباح مغربی کنارے کے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں آپریشن کرتے ہوئے مزید پندرہ فلسطینی شہریوں کو حراست میں لے لیا ہے۔
رام اللہ کے مغربی گاؤں نبی صالح کے ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں کی بڑی تعداد نے گاؤں پر دھاوا بولا اور دو گھروں میں گھس کر بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی اور دو نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔
اسی طرح کی ایک کارروائی وسطی شہر رام اللہ کے مشرقی گاؤں المغیر میں کی گئی جہاں سے چار نوجوان اٹھا لیے گئے، مزید برآں قلقیلیہ سے دو اور نابلس سے پانچ فلسطینی شہریوں کی گرفتاری کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ مغربی کنارے کے شہر بیت لحم کے جنوبی ٹاؤن بیت فجار میں بھی قابض صہیونی فوج کے اہلکاروں نے دو فلسطینی نوجوانوں کو غائب کر دیا ہے۔ گرفتار کیے گئے تمام افراد کو تفتیشی مراکز منتقل کر دیا گیا ہے۔
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں موجود فلسطینی اسیران کی تفصیلات بھی فراہم کی ہیں۔ ان کے بہ قول اس وقت ساڑھے چار ہزار سے زائد فلسطینی صہیونی عقوبت خانوں میں غیر انسانی سلوک کا سامنا کر رہے ہیں۔ قیدیوں میں چھ خواتین اور 140 بچے بھی شامل ہیں۔
تمام عالمی قوانین کی اور بین الاقوامی معاہدوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے قابض اسرائیلی حکومت نے ستائیس فلسطینی اراکین پارلیمان کو بھی حراست میں لے رکھا ہے۔ ان اراکین پارلیمان میں تین سابق وزراء سمیت فلسطینی پارلیمان کےحالیہ اسپیکر ڈاکٹر عزیز دویک بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی انتظامیہ نے 280 فلسطینیوں کو بغیر کسی فرد جرم کے محض انتظامی حراست میں بھی لے رکھا ہے۔

