اسرائیلی فوجی اہلکاروں نے مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں یہودی آباد کاری مخالف نوجوانوں کے ایک گروپ کے سرگرم نوجوان کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔
تامر اطرش نامی نوجوان نے بتایا کہ چھ اسرائیلی فوجیوں نے جبل رحمہ کے علاقے میں انہیں روکا اور مارنا شروع کردیا۔ تامر اطرش نے بتایا کہ وہ اپنی کار میں جا رہے تھے کہ صہیونی اہلکاروں نے پہلے انہیں روک اور گاڑی سے باہر آنے کا کہا، میں جیسے ہی کار سے باہر نکلا صہیونییوں نے مجھے مارنا شروع کردیا۔ اطرش کا کہنا تھا کہ وہ تشدد کرنے والے اسرائیلی فوجیوں کو شناخت کر سکتے ہیں۔ اطرش نے یہ بتایا کہ وہ اس سے قبل تل رمیدہ کالونی میں دیگر فلسطینیوں پر تشدد کرنے والے صہیونی فوجیوں کی تصاویر لے چکے تھے جس پر طیش پا اسرائیلی اہلکار نے مجھ پر حملہ کیا۔ اطرش نے مزید بتایا کہ اسرائیلی فوج کی اس کارروائی کے ذریعے یہودی آباد کاری کے خلاف نوجوانوں کے اس گروپ سے انتقام لیا گیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
