اسرائیلی سپریم کورٹ نے مقبوضہ بیت المقدس کی ایک فلسطینی خاتون کو مالی جرمانے کی ادائیگی اور نظر بندی کی شرط پر رہا کرنے کیے جانے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔
صہیونی عدالت نے اسرائیلی فوجی پر چھری سے حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کی گئی فلسطینی اسیرہ انتصار صیاد کو سکیورٹی رسک قرار دیکر اس کی رہائی سے انکار کیا۔
فلسطینی خاتون کو بائیس نومبر 2012 کو صلاح الدین روڈ سے گرفتار کیا گیا تھا، مالی جرمانے اور گھر پر نظر بند رہنے کی شرط پر انکی رہائی کے لیے متعدد بار اسرائیلی عدالتوں سے رجوع کیا جا چکا ہے، بار بار کی عدالت کے سامنے حاضریوں کے باوجود صہیونی منصف انتصار الصیاد کو رہائی دینے پر تیار نہیں۔
اطلاعات کے مطابق فلسطینی اسیرہ کو بار بار مختلف جیلوں میں بھیجا جا رہا ہے۔ انہیں اب تک مسکوبیہ، رملہ اور حالیا کی جیلوں میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ انہیں اب ستائیس فروری کو عدالت میں پیش کیا جائے گا، یاد رہے کہ اسیرہ انتصار صیاد چار بیٹوں کی ماں ہے۔ ان میں سب سے بڑے کی عمر اٹھارہ سال اور سب سے چھوٹے کی عمر بارہ سال ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
