مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسیر کے والد مہدی نے بتایا کہ صہیونی عدالت نے اس کی بیٹے کی مقدمہ کی سماعت سات جولائی تک ملتوی کردی ہے۔ والد نے بتایا کہ اس کا بیٹا نہایت تکلیف دہ حالات میں ہے اور اسے بیٹے کے مقدمہ کی کارروائی میں طوالت پر گہری تشویش ہے۔ انہوں نے اردنی فرمانروا شاہ عبدللہ دوم سے بیٹے کی جلد از جلد رہائی کے لیے مداخلت کی بھی اپیل کی۔
خیال رہے کہ صہیونی فوجیوں نے ننھے محمد المہدی کو 15 مارچ 2013 ء کو اردن کی سرحد سے حراست میں لیا تھا۔ اس پر اسرائیلی فوجیوں پر سنگ باری کرکے سات فوجیوں کو زخمی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ننھے اسیر کے خلاف مقدمہ پچھلے ایک سال سے چل رہا ہے لیکن ابھی تک اسے رہا کیا گیا اور نہ ہی اسے سزا سنائی گئی ہے۔
