مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک اسرائیلی فوجی عدالت نے سابق شرعی جج محمد احمد فریحات کو پندرہ ماہ قید اور تین ہزار شیکل جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کی سالم ملڑی کورٹ نے 47 سالہ سابق جج احمد فریحات کو یہ سزا ہفتے کے روز سنائی۔ جسٹس فریحات کو گزشتہ ماہ جنین کی بلدیہ الیامون میں ان کی رہائش گاہ پر چھاپے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔
انسانی حقوق کی انجمن ‘التضامن’ سے وابستہ وکیل فارس ابوحسن نے بتایا کہ فریحات کا شمار جنین کے سرکردہ رفاعی کارکنوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے نیشنل یونیورسٹی النجاح سے قانون اور فقہ میں ایم اے کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔
فارس ایڈووکیٹ کے مطابق فریحات کے چھے بچے ہیں اور انہیں ریڑھ کی ہڈی کے مہروں میں تکلیف اور ذیابیطس کا مرض لاحق ہے۔ احمد فریحات سن 1993ء میں بھی کئی ماہ تک اسرائیلی حراست میں رہے ہیں۔ اسی عدالت نے ہفتے کے روز برخاست ہونے سے پہلے متعدد فلسطینی اسیراں کی مدت قید میں اضافہ بھی کیا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
